وفاقی اینٹی کرپشن کورٹ نے ٹڈاپ اسکینڈل سے متعلق 3 مقدمات کا 16 سال بعد فیصلہ سنا دیا۔ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کو تینوں مقدمات سے بری کر دیا گیا۔
ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان میں مبینہ کرپشن کا کیس کی سماعت وفاقی اینٹی کرپشن کورٹ کراچی میں سماعت ہوئی۔
سابق وزیراعظم اور موجودہ چئیرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی عدالت میں پیش ہوئے۔ وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل مکمل کیے۔
جس کے بعد عدالت نے انہیں بے گناہ قرار دیتے ہوئے تینوں کرپشن مقدمات سے بری کردیا۔ ان پر الزام تھا بطور وزیراعظم فریٹ سبسڈی میں ملزموں کا ساتھ دیا۔ جس سے قومی خزانے کو 6 ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچا۔
یوسف رضا گیلانی نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ ان پر کیس موجودہ اتحادی حکومت نے ہی بنایا تھا۔ لیکن کوئی گلا نہیں۔
خیال رہے کہ ٹڈاپ کرپشن اسکینڈل میں مجموعی طور پر بیالیس مقدمات زیر سماعت ہیں۔ ان میں سے صرف تین کیسز میں یوسف رضا گیلانی کا نام شامل تھا۔ باقی ملزمان کیخلاف کیس جاری رہے گا۔
بعد ازاں وکیل فاروق ایچ نائیک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 2009 میں یہ ایف آئی آر درج ہوئی تھی۔ جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ یوسف رضا گیلانی نے اپنے پی ایس کے ذریعے 50 لاکھ روپے رشوت لی ہے۔ اس وقت کی حکومت نے ایک ہی الزام پر 26 مقدمات قائم کیے تھے۔ 2013 سے یہ کیس چل رہا ہے۔ آج 12 برس بعد فیصلہ آیا ہے۔ کسی گواہ نے یوسف رضا گیلانی کے خلاف بیان نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ آج یوسف رضا گیلانی سرخرو ہوئے ہیں۔ اور اس وقت کی حکومت نے جو جھوٹا کیس بنایا تھا، آج انہیں پتہ چلنا چاہیے کہ اس طرح کے جھوٹے کیسز بنانے سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔
چئیرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے ناراضی کی وجہ بتادی ۔ کہنے لگے ہر کام آئین کی کتاب کے مطابق کرتا ہوں۔ ایک ممبر کے پراڈکشن آرڈر جاری کیے تو کافی شور ہوا۔ ماحول خراب ہوا۔ کل ایک اور ممبر کو اٹھالیا گیا ہے۔ کل پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے تو انکے پروڈکشن آرڈر بھی جاری کروں گا۔ وفاقی اور پنجاب حکومت سے کہوں گا ان کو حاضر کریں۔





















