وطن سے محبت پاک فوج کے جوانوں کی میراث ہے، حوالدار محمد ارشاد نے 20 فروری 2022ء کو وطن کی حفاظت کے فرائض کی ادائیگی کے دوران جام شہادت نوش کیا، انہوں نے سوگواران میں والدین، بیوہ اور تین بچے چھوڑے ہیں۔
حوالدار محمد ارشاد شہید کے والد کا کہنا ہے کہ ہمارے شہداء نے اپنے خون سے آبیاری کرکے وطن عزیز کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔
حوالدار محمد ارشاد شہید کے لواحقین نے اپنے احساسات و جذبات کا اظہار کیا۔ شہید کی بیوہ نے کہا کہ ارشاد اپنے بچوں سے بہت زیادہ پیار کرتے تھے، وہ اکثر مجھ سے شہید ہونے کی دعا کا کہتے تھے، اُن کو پاک فوج میں بھرتی ہونے اور شہادت کا رتبہ حاصل کرنے کا بہت شوق تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ کہتے تھے میری شہادت پر صبر کرنا، بچوں کو میری کمی محسوس نہ ہونے دینا، شوہر کی شہادت نے میری عزت اس دنیا اور آخرت میں بڑھا دی ہے، ہر کوئی مجھے شہید کی بیوہ کہہ کر عزت دیتا ہے۔
محمد ارشاد کی بیوہ نے مزید کہا کہ بیٹی کی پیدائش پر وہ بیٹوں کی نسبت زیادہ خوش تھے، ہر کوئی مجھے شہید کی بیوہ کہہ کر عزت دیتا ہے، بڑے بیٹے کا خواب انجینئر بننا تھا مگر والد کی شہادت کے بعد وہ فوج میں جانے کا خواہشمند ہے۔
حوالدار محمد ارشاد کے بیٹے کا کہنا ہے کہ میں سو کر اٹھا تو مجھے پتہ چلا کہ میرے والد شہید ہوگئے، مجھے اپنے والد کی بہت یاد آتی ہے، میں اور چھوٹا بھائی پہلے کھیل میں لڑتے تھے مگر اب میں اس کا بہت خیال رکھتا ہوں، جب دوستوں کو معلوم ہوتا ہے کہ میں شہید کا بیٹا ہوں تو مجھے بے حد فخر محسوس ہوتا ہے۔
محمد ارشاد شہید کے بھائی نے کہا کہ بھائی کی یاد آتے ہی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، ہمارا بچپن بہت خوشگوار گزرا اور بھائی سے زیادہ وہ میرے دوست تھے، ہمارا بھائی بہت لائق تھا اور ہمارے لیے باعثِ فخر تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ میرے بھائی کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، بھائی ہم میں نہیں رہے مگر اللہ نے انہیں شہادت کا عظیم رتبہ عطا فرمایا، پاک فوج نے اس دوران ہمارا بھرپور خیال رکھا اور ہر ممکن مدد کی۔
حوالدار محمد ارشاد شہید کی شجاعت اور بہادری تاریخ کا ایک روشن باب ہے، شہید کی قربانی ہمارا سرمایہ ہے۔