پاکستان میں 54 فیصد سگریٹ غیرقانونی طور پر فروخت ہونے کا انکشاف سامنے آگیا۔
انسٹیٹیوٹ آف پبلک اوپینین ریسرچ کی تحقیق کے مطابق اسمگل شدہ اور نان ڈیوٹی پیڈ سگریٹس کی فروخت سے قومی خزانےکو سالانہ 300 سے 325 ارب روپے نقصان ہورہا ہے اور 332 سگریٹ برانڈز کی طے کردہ کم از کم 162.25 روپے سے بھی کم قیمت پر فروخت جاری ہے۔
انسٹیٹیوٹ آف پبلک اوپینین ریسرچ کے مطابق سگریٹ انڈسٹری میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے حوالے سے 19 مختلف اضلاع میں سروے کیا گیا جس میں کل 413 سگریٹ برانڈز کی نشاندہی کی گئی جو فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ریکارڈ میں بھی موجود نہیں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 413 سگریٹ برانڈز میں سے صرف 19 سگریٹ برانڈز پر ٹریک اینڈ ٹریس ٹیکس اسٹیمپ پائی گئی اور صرف 95 سگریٹ برانڈز پر حکومت پاکستان کی منظور کردہ تصویری و تحریری ہیلتھ وارننگ موجود ہے۔
286 سگریٹ برانڈز پر نہ تو منظور کردہ ہیلتھ وارننگ اور نہ ہی ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم ٹیکس اسٹیمپ موجود پائی گئی۔
پاکستان میں سگریٹ پیکٹ پر تصویری ہیلتھ وارننگ کا قانون 2009 میں نافذ ہوا تھا اور 16 سال بعد بھی حکومت پاکستان کی منظور شدہ ہیلتھ وارننگ کے بغیر سگریٹ پیکٹ سرعام فروخت جاری ہے۔