متنازع پیکا ترمیمی بل کے خلاف پاکستان فیڈرل یونین آف جرنسلٹس ( پی ایف یو جے ) کے زیر اہتمام صحافی اور میڈیا ورکرز آج ملک گیر احتجاج کریں گے۔
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی اپیل پر آج ملک بھر میں پیکا ترمیمی بل کے خلاف احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں ہوں گی اور صدر پی ایف یو جے افضل بٹ نے کہا ہے پیکا بل کیخلاف بھرپور تحریک چلائیں گے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران صدر پی ایف یو جے کا کہنا تھا کہ ہم اس قانون کو کالا قانون قرار دے کر مسترد کرتے ہیں اور اس کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کرتے ہیں، ملک بھر کے تمام صحافی اور میڈیا ورکرز جلسے جلوسوں میں ریلیاں نکال کر احتجاج میں شریک ہوں۔
افضل بٹ نے تحریک آزادی صحافت کے اگلے مرحلے میں وکلا برادری، تمام بار کونسلز، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی کو بھی احتجاج میں شرکت کی دعوت دینے کا اعلان کیا۔
پی ایف یو جے کا بیان
پی ایف یو جے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ظالمانہ پیکا ترمیمی ایکٹ کا مقصد آزاد میڈیا، سوشل میڈیا اور اظہار رائے کی آزادی کو دبانا ہے اور صدر مملکت کی منظوری کے ساتھ یہ ایکٹ قانون بن جائے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ ہم نے حکومت سے اپیل کی کہ بل کی منظوری سے پہلے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے لیکن صحافی تنظیموں کی اپیل کو نظر انداز کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ ترامیم آئین کی روح کے خلاف ہیں جنہیں ہم مسترد کرتے ہیں اور تمام صحافی تنظیمیں منگل کے روز دن تین بجے ملک بھر کے پریس کلبز میں بھرپور احتجاج کریں گی۔
دوسری جانب صحافی تنظیموں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے بھی پی ایف یوجے کے احتجاج کی حمایت کر دی ہے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے آج ملک گیر احتجاج میں بھرپور شرکت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بل عجلت میں منظور کرایا گیا جو حکومتی عزائم اور بدنیتی کا ثبوت ہے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے واضح کیا کہ پیکا ترمیمی بل کے خلاف بھرپور عوامی اور قانونی جدوجہد کی جائے گی۔
یاد رہے کہ پیر کے روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے صحافتی تنظیموں اور اپوزیشن سینیٹرز کی مخالفت کے باوجود کثرت رائے سے پیکا ترمیمی بل کی منظوری دے دی تھی جبکہ پریس گیلری میں موجود صحافیوں نے اس موقع پر ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
پیکا ترمیمی بل پر صحافی تنظیموں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ کو خط لکھا کر ایکٹ کو ڈریکونین لاء قرار دیا اور منظوری سے پہلے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا مطالبہ کیا تھا لیکن کمیٹی نے تمام خدشات بالائے طاق رکھتے ہوئے بل منظور کیا۔