سابق صدر ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے کہ مجھے ٹرمپ کی تقریب حلف برداری کا دعوت نامہ ملا ہے مگر پاکستان کے حالات کے باعث معذرت کرلی۔
سندھ ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں عارف علوی نے کہا کہ حکومت پر بیرونی دباؤ آنا چاہیے، پاکستان پر نہیں۔ ہمیں انسانی حقوق کیلئے بین الاقوامی سطح پر آواز بلند کرنی چاہیے۔ جوبائیڈن نے ہماری حکومت ختم کی تھی یہی بانی پی ٹی آئی نے کہا تھا۔
عارف علوی کا کہنا تھا کہ مذاکرات ان سے بھی جاری ہیں جن کے پاس کوئی اختیارنہیں، ہمارے لوگ قتل ہوئے، اغوا کیا گیا اور دہشت گرد بھی ہم بن گئے، مجھے دہشتگرد بنادیا گیاہے لیکن اصل دہشت گردآزاد گھوم رہے ہیں، ان حالات میں بھی ہم مذاکرات سے مسائل کاحل چاہتے ہیں۔
اس سے قبل سابق صدر عارف علوی کے خلاف واہ کینٹ راولپنڈی میں درج مقدمے میں سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے پر عدالت نےعارف علوی کی تیس روز کیلئے حفاظتی ضمانت منظور کرلی۔ عدالت نے سابق صدرکو 25 ہزار کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ عارف علوی پنجاب کے تین مقدمات میں پہلے ہی ضمانت پر ہیں۔






















