ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد کا کہنا ہے کہ 9 مئی افواج پاکستان کا مقدمہ نہیں،عوام کا مقدمہ ہے قانونی تقاضوں کے مطابق سانحے کے مجرموں کو سزا دینے کا عمل مکمل ہو چکا مگر انصاف کا سلسلہ منصوبہ سازوں کے کیفر کردار تک جاری رہے گا۔
راولپنڈی میں پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ جتھوں کے حملوں کو آئین کے مطابق نہ روکا جائے تو معاشرے کو کہاں لے جائیں گے، پاکستان میں ملٹری کورٹس آئین اور قانون کے مطابق دہائیوں سے قائم ہیں، ملٹری کورٹس سے سزا یافتہ افراد کے پاس سپریم کورٹ میں اپیل کا حق حاصل ہوتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ نوجوانوں کو ورغلا کر ریاست کے خلاف کھڑا کیا گیا، انصاف کا سلسلہ 9 مئی کے منصوبہ سازوں کو کیفرکردار تک جاری رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ عرصہ پہلے بیانیہ بنایا گیا حملے ایجنسیوں نے کرائے، انتشاریوں کو خوش ہونا چاہیے ایجنسیوں کے بندوں کو سزائیں سنائی گئیں۔
جنرل احمد شریف نے کہا کہ ملٹری کورٹس میں مجرموں کو وکلاء اور گواہوں سمیت تمام سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نو مئی کے جھوٹے بیانیے کا کوئی قانون یا اخلاقی جواز نہیں ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ 9 مئی سے جڑے انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں مقدمات کی سماعت میرٹ پر ہونی چاہیے۔ کیپٹل ہل اور لندن فسادات میں بھی انصاف کے تقاضے پورے کر کے مجرموں کو سزائیں سنائی گئی ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ فوج میں خود احتسابی کا عمل بہت جامع اور موثر ہے۔ انہوں نے نو مئی کے واقعات کے پیچھے مربوط منصوبہ بندی کی موجودگی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ ان واقعات کے پیچھے ہیں، ان کو کٹہرے میں لانا ضروری ہے۔ واضح کیا کہ پاک فوج کسی سیاسی جماعت یا نظریے کے خلاف نہیں ہے۔ انہوں نے کورٹ مارشل سے متعلق غیر ضروری تبصروں سے گریز کرنے کی اپیل کی۔
انہوں نے 9 مئی کی سازش کو مخصوص سیاسی جماعت کی طرف سے قرار دیتے ہوئے کہا کہ منفی اور تشدد کی سیاست کا سلسلہ 2014 سے شروع ہوا۔ انہوں نے سانحہ نو مئی کو ایک تسلسل سازش قرار دیا۔
سیاستدانوں کے درمیان مذاکرات خوش آئند قرار
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ سیاستدانوں کے درمیان مذاکرات خوش آئند ہیں مگر یہ سیاسی جماعتوں نے کرنے ہیں، سیاسی جماعتوں کو چاہیے انتشار کے بجائے مذاکرات سے مسئلہ حل کریں، سیاست کو ریاست پر مقدم رکھنے والوں کو جواب دینا ہوگا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 26 نومبر کو جب سیاسی قیادت بھاگی تو سوشل میڈیا پر فیک پروپیگنڈا کیا گیا، کوشش کی گئی پہلے سے موجود سیاسی خلفشار کو بڑھایا جائے۔ 26 نومبر کو سیاسی احتجاج نہیں سیاسی دہشت گردی کی گئی۔
نومبر میں ہونے والے دھرنے میں فوج کے کردار اور ہونے والی اموات سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا یکم دسمبر کو وزارت داخلہ نے اس حوالے سے مفصل اعلامیہ جاری کیا تھا، اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ فوج کو پرتشدد ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے تعینات نہیں کیا گیا تھا، فوج کی تعیناتی صرف ریڈ زون تک محدود تھی جبکہ سیاسی قیادت کے مسلح گارڈ اور ہجوم میں شامل لوگوں کے پاس آتشی اسلحہ تھا، مظاہرین کے پاس اسلحہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر دیکھا بھی، بے معنی ہنگامہ آرائی سے توجہ ہٹانے کے لیے فیک نیوز کا سہارا لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ فوج کسی خاص سیاسی جماعت یا نظریہ کی نہ مخالف ہے نا حمایتی، 26 نومبر کی سازش کے پیچھے سوچ سیاسی دہشتگردی کی ہے، 26 نومبر کو ہزاروں کارکنوں کی شہادت کا جھوٹ پھیلایا گیا، ان کو اعتماد ہے کہ یہ کوئی بھی جھوٹ بیچ سکتے ہیں۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پارا چنار کا تنازع صوبائی حکومت اور مقامی سیاستدانوں نے حل کرنا ہے۔
دہشتگردی کے خلاف آپریشنز
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ پاکستان نے 59,000 سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کئے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر 169 سے زائد آپریشنز جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے کئی منصوبوں کو ناکام بنایا گیا ہے اور بھاری مقدار میں اسلحہ و گولا بارود بھی پکڑا گیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ فتنہ الخوارج کے متعدد سرغنوں کو جنہم واصل کیا گیا اور 27 افغان دہشت گردوں کو بھی ہلاک کیا گیا۔ خودکش بمباروں سے بارودی جیکٹس بھی برآمد کی گئی ہیں، جنہوں نے ذہن سازی کے حوالے سے ہوش ربا انکشافات کئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ گزشتہ دو برس کےدوران افغان عبوری حکومت کے ساتھ مختلف فورمز پر بات چیت ہوئی ہے، افغان عبوری حکومت کو یاباور کرایاگیا کہ فتنہ الخوارج کی سہولت کاری نہ کی جائے۔
افغانستان میں قیام امن
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لیے بہترین کردار ادا کیا ہے، جبکہ افغانستان کی سرزمین فتنہ الخوارج کی پاکستان میں کارروائیوں میں ملوث ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف مختلف نیٹ ورکس کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاک فوج اپنی عوام اور بارڈرز کی حفاظت کے لیے دن رات کوشاں ہے۔ بارودی سرنگوں کے خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پر کام کیا جا رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بتایا کہ چمن بارڈر پر جدید نظام متعارف کرائے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تربیت کا عمل جاری رہتا ہے، تاکہ سیکیورٹی فورسز ہر طرح کی چیلنجز کا موثر جواب دے سکیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے یہ بھی کہا کہ پاکستان سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے انخلا کا عمل جاری ہے، جس کے تحت موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 383 افسروں اور جوانوں نے وطن کی خاطر اپنی جانوں کی قربانی دی ہے، اور پاک فوج و قوم شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ حکومت پاکستان کی ہدایت پر اسمگلنگ اور بجلی چوری کے خلاف بھی سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
بھارت کی جانب سے خطرات
انہوں نے بھارت کی طرف سے مشرقی سرحد پر خطرات کا بخوبی ادراک ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال بھارت نے سیز فائر کی 25 خلاف ورزیاں کی ہیں۔ انہوں نے یہ عزم ظاہر کیا کہ ملکی سالمیت کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ بھارتی فورسز مختلف ریاستوں میں آزادی کی تحریکوں کو دبانے کے لیے ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہیں۔
مقبوضہ کشمیر کی صورتحال
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی سیکیورٹی فورسز نہتے کشمیری نوجوانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے نہتے اور معصوم عوام کے ساتھ ہر فورم پر کھڑے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں تعلیم کے شعبے کے لیے 6500 پروگراموں کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے بہت سے منصوبوں کو مکمل کیا گیا ہے، جو علاقے میں ترقی کی راہ ہموار کریں گے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ بلوچستان میں بھی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور تعلیم کے شعبے میں اہم کردار ادا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ کچھی کنال کا منصوبہ بھی تکمیل کے مراحل میں ہے، جو مقامی آبادی کی زراعت اور پانی کی فراہمی میں بہتری لائے گا۔