امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر ایک بار پھر حملہ کیا گیاہے جس میں 15 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے اصفہان کے صنعتی علاقے میں حملہ کیا گیاہے جس میں 15 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں ۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہاہے کہ امریکا اوراسرائیل کی مسلط کی گئی ظالمانہ جنگ کے 15 دن گزر چکے ہیں ، دشمن کے حملوں کے باوجود ملک معمول کے مطابق چل رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ حملوں کے باوجود حکومتی اہلکاروں کی خدمت میں کوئی رکاوٹ نہیں آئی ، حکومتی اہلکار اپنا کام محنت سے جاری رکھے ہوئے ہیں ، امریکا اور اسرائیل نے ہمارا ملک تباہ کیا ، ہم ملکر دوبارہ تعمیر کریں گے ۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے حوالے سے سب کچھ معمول کے مطابق ہے،اگر دوبارہ حملہ ہوا تو امریکی تیل کمپنیوں کو نشانہ بنائیں گے،توانائی تنصیبات پر حملہ ہوا تو سخت جواب دیا جائے گا،آبنائے کھلی ہے ،امریکا اور اس کے اتحادیوں کو اجازت نہیں دیں گے،جوابی کارروائی میں گنجان آباد علاقوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے،حملے کا جواب امریکی مفادات کو نشانہ بناکر دیں گے۔
عراق
دوسری جانب عراقی دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملہ ہواہے ، حملے میں کسی کے زخمی اور ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
ترک وزیر خارجہ
ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس آنا چاہیے،جنگ جلد ختم ہونی چاہیے،تنازع مزید پھیلنے کا خطرہ ہے،ترکیے پر ہونیوالے حملوں سے متعلق ایران سے بات چیت ہورہی ہے،اسرائیل لبنان کو عدم استحکام کی طرف لے جا رہا ہے،الاقصٰی مسجد کی بندش سے خطے میں تشویش پھیل رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کے مسئلے کا حل فوجی نہیں سفارتکاری ہے،لبنان کی صورتحال پر گہری تشویش ہے،لبنانی عوام نے اس جنگ کو نہیں چنا بلکہ انہیں اس میں گھسیٹا گیا، لبنان کی خودمختاری کا احترام ضروری ہے، لبنان میں فوری جنگ طور جنگ بندی کی ضرورت ہے۔




















