پاک فوج کے جانباز سوار محمد حسین شہید نشان حیدر کا تریپن واں یوم شہادت آج منایا جا رہا ہے۔ قوم کے اس بہادر بیٹے نے 1971 کی جنگ میں شکر گڑھ کے محاذ پر شجاعت کی لازوال داستان رقم کی۔
اٹھارہ جون 1949 کو گوجرخان میں پیدا ہونے والے محمد حسین ستمبر 1966 میں بطور ڈرائیور پاک فوج کا حصہ بنے۔ 1971 کی پاک بھارت جنگ میں اس مرد آہن نے شکر گڑھ کے محاذ پر دشمن کو ناکوں چنے چبوا دیئے۔ اگلے مورچوں پر گولہ بارود پہنچاتے ہوئے سوار محمد حسین نے تاک تاک کر ایسی نشان دہی کی کہ پاک فوج نے بھارت کے 16 ٹینک تباہ کر دیئے۔
دشمن کو اپنی ساری طاقت ایک سوار محمد حسین کو راستے سے ہٹانے پر لگانا پڑ گئی۔ 10 دسمبر 1971 کو یہ جانباز دشمن کی مشین گن کا برسٹ اپنے سینے پر روک کر ارض پاک پر قربان ہوگیا ۔
سوار محمد حسین کو جنگ کے دوران ہی بیٹے کی پیدائش کی خوشخبری ملی۔ جس کے ایک ماہ بعد گھر تو لوٹے مگر قومی پرچم میں لپٹے ہوئے۔ 53 برس پہلے کے گوجر خان کا ڈھوک پیر بخش اسی شہید کی نسبت سے ڈھوک سوار حسین اور ڈھوک نشان حیدر کہلایا۔
قرآن خوانی اور دعاؤں کا اہتمام
سوار محمد حسین شہید (نشانِ حیدر) کے یومِ شہادت پر مساجد میں قرآن خوانی اور دعاؤں کا اہتمام کیا گیا۔ دن کا آغاز مساجد میں قرآن خوانی اور دعاؤں کے ساتھ ہوا، علماء کرام نے شہید کے درجات کی سربلندی کے لئے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا۔
علماء کرام نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ شہید ہمیشہ زندہ ہوتے ہیں، شہداء کا لہو ہم پر قرض ہے، جو قومیں اپنے شہداء کی تکریم نہیں کرتیں وہ ذلیل و رسوا ہو جاتی ہیں، زندہ قومیں اپنے محسنوں کے احسانات کو فراموش نہیں کرتیں، سوار محمد حسین شہید دھرتی کا بہادر بیٹا تھا جو ہمیشہ ہر دل میں زندہ رہے گا۔






















