سندھ سابق نگراں وزیر صحت پروفیسر سعد خالد نیاز کا کہنا ہے کہ سندھ کے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو ڈیجیٹلائزڈ ہونا چاہیے جس کے نتیجے میں گھوسٹ ملازمین کا بھی پتہ چل جائے گا اور ٹرافسنر پوسٹنگ سمیت تمام ڈیٹا ریکارڈ پر آجائے گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز کراچی پریس کلب میں اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، پریس کانفرنس سے اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے نومنتخب صدرپروفیسر عاطف حفیظ صدیقی، کراچی کے صدر پروفیسر عبداللہ متقی، ماہر امراض سینہ پروفیسر سہیل اختر اور ماہر اماض دماغ ع اعصاب پروفیسر عبدالمالک نے بھی خطاب کیا۔
ڈاکٹر سعد خالد نیاز کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی وزارت کے دوران بھی یہ تجویز دی تھی سندھ میں بھی باقی صوبوں کی طرح ہیلتھ انشورنس پر کام کرنے کی ضرورت ہے، محکمہ صحت پہلے ہی 90 بلین روپے مختلف اداروں کو دے رہا ہے، سیکریٹریٹ میں جاکر اندازہ ہوتا ہے سیکشن آفیسر کے سامنے ڈاکٹرز ہیلپ لیس ہوتے ہیں، ایک چھٹی کے لیے بھی انہیں بےعزتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، انہوں نے کہا کہ سسٹم کمپیوٹرائزڈ ہو جائے گا تو سیکشن آفیسر کا رول ہی ختم ہو جائے گا۔
ڈاکٹر سعد خالد نیاز کا کہنا تھا کہ سندھ میں بھی فارمیسی کا سسٹم پرسکرپشن بیسڈ ہونا چاہیے، پنجاب میں ڈرگ اسٹور اور فارمیسی الگ الگ ہیں، فارمیسی پر کوالیفائیڈ فارماسسٹ ضروری ہوگا، جعلی ڈاکٹرز بھی بڑا مسئلہ ہے، لیبارٹریز کی یونیفارم پالیسی ہونی چاہیے اور پیما کانفرنس میں اس ایشو کو اٹھائیں گے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسینشل ٹیسٹ مفت ہونے چاہیے، انگلینڈ زیابطیس کے مریض کے ٹیسٹ مفت ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پڑھا لکھا طبقہ دل برداشتہ ہوکر ملک سے باہر جا رہا ہے،سب سے بڑا مسئلہ خواتین ڈاکٹرز کی تعداد بڑھ رہی ہے اور وہ فیلڈ میں کام نہیں کر سکتی، ایسے میں ڈاکٹرز کی شدید کمی کا سامنا ہے، ڈاکٹرز کو عزت اور سیکورٹی دونوں نہیں ملتی،پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے مرکزی نومنتخب صدر ڈاکٹر عاطف حفیظ صدیقی نے کہا کہ پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کا دو سالہ کنونشن 21 اور 22 ستمبر کو کراچی میں منعقد ہوگا ، اس کنوینشن میں پورے پاکستان سے ڈاکٹر آرہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تین لاکھ سے زیادہ ڈاکٹر پی ایم اے سے رجسٹرڈ ہیں، پینتیس فیصد خواتین ڈاکٹر پاکستان میں کام نہیں کرتی ہیں، یہ پینتیس فیصد بہت بڑا فیکٹر ہے، 65 فیصد خواتین میں سے بیس یا پچیس فیصد فل ٹائم جاب کرتی ہیں، جو خواتین فیلڈ میں کام نہیں کرتی ان سے کیسے کام لیا جائے یہ سوچنے کی بات ہے، اس کا انفراسٹرکچر موجود ہے ہم انہیں استعمال کر سکتے ہیں، ٹیلی میڈیسن کلینکس ہم نے کورونا کے دوران چلائے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت بھی رجسٹرڈ ڈاکٹرز کی کافی تعداد ملک سے باہر جا رہی ہے، اس تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے، نئے آنے والے ڈاکٹرز کی 80 فیصد تعداد باہر جانے کی خواہشمند ہے، جو ڈاکٹر پڑھ لکھ کر آتا ہے اس کی تنخواہ نہ ہونے کے برابر ہے، جناح اسپتال میں ڈاکٹر کو حراسانی کا سامنا کرنا پڑا ہے، ایسے میں ڈاکٹر کیسے اس ملک میں رکیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ بیرون ملک پاکستانی ڈاکٹرز اہم کردار ادا کر رہے ہیں، پہلا ہارٹ ٹرانسپلانٹ جو کیا گیا وہ پاکستانی ڈاکٹر نے کیا ، سرکاری یونیورسٹی میں پچاس لاکھ خرچ کرکے ایک ڈاکٹر بنتا ہے ، پبلک سیکٹر بنجر ہوتا جا رہا ہے۔پیما کی پالیسی کا حصہ بنائیں گے کہ لیبارٹریز میں یونیفارم پالیسی ہونی چاہیے، پیما ملک بھر میں زیابطیس کے پچاس مفت کلینک چلا رہی ہے، پیما کے آنکھوں کے چار اسپتال کام کر رہے ہیں۔
پروفیسر سہیل اختر نے کہا کہ پیما کنونشن سے قبل پاکستان کے چھے شہروں میں پری کانفرنس ورکشاپس مختلف موضوعات پر ہو رہی ہیں، اس کنونشن میں پندرہ سیشن ہونگے جن میں سائنس، فزیشن فارما ریلیشن شپ، خواتین کی صحت اور اے آئی پر بھی سیشنز ہونگے، اس کنونشن میں ہیومن ملک بینک، ٹرانسپلانٹیشن ، ٹرانسجینڈرز کے مسائل پر بھی کانفرنس میں بات ہوگی، فلسطین کی موجودہ صورتحال پر سیشن رکھا گیا ہے، کانفرنس میں جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان بھی خطاب کریں گے۔






















