تشدد سے متاثرہ افراد کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر بدھ کو مقبوضہ کشمیر کے بھارتی قید میں کشمیریوں اور بھارتی فوج کے تشدد زدہ افراد کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا گیا اور کل جماعتی حُریت کانفرنس کی جانب سے مظفرآباد میں ریلی نکالی گئی۔
کل جماعتی حُریت کانفرنس آزاد کشمیر کے کنوینئر غلام محمد صفی ، راجہ خادم حسین ، عزیر احمد غزالی ، زاہد صفی ، مشتاق احمد بٹ ، زاہد اشرف ، مشتاق الاسلام، چوہدری شاہین ، اعجاز رحمانی اور دیگر رہنماؤں نے ریلی کی قیادت کی ۔
ریلی کے شرکاء مقبوضہ کشمیر کی ابتر صورتحال ، کشمیری قیدیوں کی حالت زار اور بھارتی جنگی جرائم کے خلاف سراپا احتجاج رہے جبکہ ریلی میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔
ریلی کے شرکاء نے کتبے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر مقبوضہ کشمیر میں قیدیوں کی رہائی اور انکی تصاویر آویزاں تھیں۔
ریلی کے شرکاء کی جانب سے " رہا کرو رہا کرو کشمیری قیدیوں کو رہا کرو" "جس کشمیر کو خون سے سینچا وہ کشمیر ہمارا ہے"، "بھارتیو غاصبو جموں کشمیر چھوڑ دو" ،"ہم کیا چاہتے آزادی" کے فلک شگاف نعرے لگائے گئے۔
غلام محمد صفی کی قیادت میں کشمیری رہنماؤں نے اقوامِ متحدہ کے مبصرین کو بھارتی جنگی جرائم کیخلاف ایک قراداد بھی پیش کی ۔
غلام محمد صفی کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بھارتی فوجی قبضے کے خاتمے اور حصول حق خودارادیت تک ہماری جدوجھد جاری رہے گی، بھارت مقبوضہ ریاست پر فوجی قبضے کو دوام بخشنے کیلئے کشمیری عوام پر بدترین جنگی جرائم ڈھا رہا ہے اور تحریک آزادئ کشمیر کو دبانے کیلئے کشمیری قیادت کو بدترین انتقام کا نشانہ بنا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قومی آزادی کی جدوجھد میں بھارت نے مقبول بٹ اور محمد افضل گرو کو تختہ دار پر چڑھا کر کشمیری عوام کے حوصلوں کو توڑنے کی ناکام کوشش کی، مودی حکومت نے کشمیری آزادی پسند رہنماؤں کو حق خودارادیت کے بنیادی موقف سے ہٹانے کیلئے جیلوں میں قید کیا۔
اس موقع پر سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں کشمیری قیدیوں کی رہائی کے لیئے کردار ادا کریں ، مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل تک جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔
ریلی سے خطاب کرتے ہوئے امیرجماعت اسلامی آزاد کشمیر ڈاکٹر محمد مشتاق کا کہنا تھا کہ سید علی گیلانی شہید ، محمد اشرف خان صحرائی شہید، الطاف احمد شاہ ، غلام محمد بٹ ، حکیم نوید انجم کے جنازے بھارتی جیلوں نکلے۔
رہنما مسلم کانفرنس راجہ ثاقب مجید کا کہنا تھا کہ کشمیری آزادی پسند راہنماؤں میر واعظ مولوی محمد فاروق شہید ، شیخ عبد العزیز شہید ، خواجہ عبدالغنی شہید کو دلی سرکار نے آزادی مانگنے کی پاداش میں سر راہ شہید کیا، لیکن کشمیری عوام کا سرنگوں نہیں ہوا۔
ڈائریکٹر کشمیر لبریشن سیل ڈاکٹر سجاد لطیف خان کا کہنا تھا کہ حق خودارادیت کشمیری عوام کا بنیادی حق ہے۔ اقوامِ متحدہ وعدے پورے کرے۔
عزیر احمد غزالی کا کہنا تھا کہ مودی حکومت کشمیری رہنماؤں مسرت عالم بٹ ، شبیر احمد شاہ ، یاسین ملک ، آسیہ اندرابی ، ڈاکٹر عبد الحمید فیاض ، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، ناہیدہ نسرین ، نعیم خان ، ایاز اکبر ، صوفی فہمیدہ ، سیف اللہ پیر ، ظفر اکبر بٹ ، محمد یوسف فلاحی ، امیر حمزہ ، حیات ڈار ، عمر عادل ڈار اور دیگر رہنماؤں کو رہا کیا جائے۔
مشتاق احمد بٹ کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی حکومت مسلسل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کو نظر انداز کر کے امن کو تہ وبالا کررہی ہے۔
زاہد اشرف کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کشمیری عوام کو آزادی اور حقوق مانگنے کو جرم قرار دیتے ہوئے اجتماعی قتل عام کا نشانہ بنا چکی ہے۔
ریلی کے شرکاء نے برہان وانی شہید چوک سے گھڑی پن چوک تک مارچ کیا۔






















