آزاد کشمیر میں پرتشدد احتجاج کے دوران بھارتی میڈیا کا گھناؤنا کردار سامنے آگیا۔ بھارتی میڈیا صورتحال کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا اور مظاہرین کو انتشار پر اکساتا رہا۔
عوامی ایکشن کمیٹی کی احتجاجی کال پر پرتشدد واقعات میں پولیس اہلکاروں کو زخمی اور شہید کیا گیا، وفاقی حکومت نے مطالبات منظور کرتے ہوئے آزادجموں وکشمیرکوفوری 23 ارب روپے اضافی فنڈ جاری کیا۔
حکومت کے مثبت فیصلے کے باوجود مخصوص ٹولے نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر پتھراؤ کیا اور گاڑیوں کو آگ لگائی، اے اے سی کے کچھ رہنماؤں نے واضح طور پر تشدد سے منع کیا مگر شر پسند انتشارکو ہوا دیتے رہے۔
بھارتی میڈیا نے گھناؤنا کردار ادا کیا اور صورتحال کوبڑھاچڑھاکر پیش کیا اور لوگوں کومزید اشتعال دلایا
بھارتی وزیر دفاع نے آزاد کشمیر کے حوالے سےکہا تھا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہمیں طاقت کا استعمال کرنے کی ضرورت نہیں، بھارتی وزیر دفاع نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام خود پاکستان سے علیحدگی اور بھارت میں شمولیت کا مطالبہ کریں گے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں کہ آزاد کشمیر میں حالیہ پرتشدد واقعات کی لہر کے پیچھے بھارت پوری طرح ملوث ہے، مودی حکومت مقبوضہ کشمیر میں جاری اپنے ظلم و ستم سے توجہ ہٹانے کیلئے آزاد کشمیرکے پرامن ماحول کو خراب کر رہی ہے۔
اب ایک بار پھر عوامی ایکشن کمیٹی نے نئے مطالبات کے ساتھ27 مئی کو احتجاج کی کال دےدی ہے، جب تمام مطالبات تسلیم کر لئے گئے تو عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے دوبارہ 27 مئی کو احتجاج کی کال سمجھ سے بالاتر ہے۔
آزاد کشمیر میں پر تشدد احتجاج کی سیاست سے کشمیر میں سیاحت کے شعبے کو نقصان ہوا، گزشتہ پر تشدد مظاہروں سےغریب اور دیہاڑی دار سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ نئی احتجاجی کال اور انتشار پسندی سے کشمیری عوام سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہے۔





















