زچگی کے بعد ضائع ہونے والا انسانی پلیسینٹا لاکھوں روپے مالیت کے اینٹی ایجنگ انجکشن بنانے میں استعمال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ایف آئی اے کی تحقیقات میں لاہور، پشاور اور راولپنڈی میں مبینہ نیٹ ورک سامنے آگیا۔ کسٹمز اور ویسٹ منیجمنٹ کمپنیوں کے کردار کی بھی تحقیقات شروع کردی گئیں۔
جو انسانی پلیسینٹا عام طور پر طبی فضلہ سمجھ کر تلف کر دیا جاتا ہے، وہی مبینہ طور پر لاکھوں روپے مالیت کے بڑھتی عمر کے آثار روکنے والے اینٹی ایجنگ انجکشن بنانے کے لیے بیرونِ ملک بھیجا جا رہا تھا۔ ایف آئی اے کی تحقیقات میں مبینہ نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات سامنے آگئے۔
ذرائع کے مطابق انسانی پلیسینٹا سے تیار کیے جانے والے اینٹی ایجنگ انجکشن کی پاکستانی مارکیٹ میں قیمت تقریباً 7 لاکھ روپے تک ہے، جبکہ لاہور، پشاور اور راولپنڈی میں مبینہ ایجنٹس کی نشاندہی بھی کر لی گئی۔
تحقیقات کے دوران ویتنام بھیجی جانے والی 100کلوگرام پلیسینٹا کی کھیپ روک لی گئی، جبکہ کسٹمز اہلکاروں کے ممکنہ کردار کے ساتھ ساتھ ویسٹ منیجمنٹ کمپنیوں کی شمولیت کے پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق مختلف اسپتالوں سے ہر ماہ تقریباً 200کلوگرام پلیسینٹا اکٹھا کیا جاتا تھا۔ ایف آئی اے نے راولپنڈی، اسلام آباد، لاہور اور پشاور کے تقریباً 200اسپتالوں کو بھی شارٹ لسٹ کر لیا ہے جہاں سے مزید شواہد اور ریکارڈ حاصل کیا جا رہا ہے۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے اور نیٹ ورک سے جڑے تمام کرداروں کا تعین کیا جارہا ہے
دوسری جانب ایف آئی اے کی جانب سے اس کیس میں گرفتار 5 ملزمان کو عدالت میں پیش کرکے ملزمان کا مزید ایک روز کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا۔





















