ترجمان قطری وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر دوحا میں موجود ہیں تاہم وہ ایرانی حکام سے براہِ راست ملاقات نہیں کریں گے۔
ترجمان ماجد الانصاری نے نیوز بریفنگ کے دوران بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی اعلیٰ سطحی ملاقات کا شیڈول طے نہیں ہوا۔ وٹکوف اور کشنر قطر میں ثالثی کرنے والے فریقوں سے ملاقات کریں گے۔ امریکا وفد سے مذاکرات کی پیش رفت پر بات چیت کی جائے گی۔
ترجمان نے بتایا کہ منجمد فنڈز کا معاملہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کی پیش رفت سے جڑا ہے، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمدورفت اور بارودی سرنگوں کا خاتمہ اولین ترجیح ہے، قطر آبنائے ہرمز سے محفوظ جہاز رانی کیلئے عمان کے ساتھ رابطے میں ہے۔
ماجد الانصاری نے کہا کہ آبنائے ہرمزسے متعلق قائم ہاٹ لائن کو حالیہ تنازعات پر قابو پانے کے لیے استعمال کیا گیا، آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے میں فرانس کی شمولیت کوقدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، جہاز رانی کی آزادی تمام خلیجی ممالک کا حق ہے، آبنائے ہرمز کی بندش یا اس کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنا ناقابلِ قبول ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے 6 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز ابھی تک تہران منتقل نہیں کیے گئے، واشنگٹن اور تہران کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات بند نہیں ہوئے، ثالثی تکینکی مذاکرات کو آسان بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔






















