سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ بھارت نےعالمی قانون کی توہین کرتےہوئےدریاؤں کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی اورپانی کو ایک ہتھیار کے طور پراستعمال کیا،سندھ طاس معاہدےکی معطلی قانونی اعتبارسےبےمعنی ہے۔
سابق وفاقی وزیرخرم دستگیرخان نےسندھ طاس معاہدےپربین الاقوامی سیمینارسےخطاب میں کہاکہ بھارت نے گزشتہ سال یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنےکا اعلان کیا،حالانکہ یہ معاہدہ غیرمعمولی مضبوطی اور لچک کا حامل ہے اور اس میں کسی بھی فریق کو یکطرفہ معطلی کا اختیار حاصل نہیں،اس لیے معاہدے کی معطلی قانونی اعتبار سے بے معنی ہے۔
خرم دستگیرکا کہنا تھا کہ معاملہ صرف معاہدے کی معطلی تک محدود نہیں رہا بلکہ بھارت کی جانب سے کھلی آبی دھمکیوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا،ایک بھارتی وزیر نےیہ بیان دیاکہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گےکہ دریائےسندھ کا ایک قطرہ بھی پاکستان نہ پہنچے،جبکہ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نےکہا کہ سندھ طاس معاہدہ کبھی بحال نہیں ہوگا۔
انہوں نےمزیدکہاکہ بھارتی وزرا کےیہ بیانات اسی مؤقف کا تسلسل ہیں جو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے 2016میں پیش کیاتھا،بھارت کی دھمکیاں ایک بارنہیں بلکہ بار باردہرائی گئی ہیں،اس لیے بھارتی بیانات اورمؤقف کا حقائق کی بنیاد پر جائزہ لینا ضروری ہے۔






















