این ڈی ایم اے نے ملک کے مختلف شہروں میں 3 جولائی تک وقفے وقفے سے پری مون سون بارشوں کی پیش گوئی کر دی۔
اعلامیے کے مطابق مسلسل سخت گرمی اور جولائی کے پہلے ہفتے میں بارشوں سے اچانک گلیشئیر پگھلنے، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کا بھی خطرہ ہے۔
ملک میں شدید گرمی اور بارشوں سے گلیشیر پگھلنے کے عمل میں تیزی آگئی۔ این ڈی ایم اے نے گلیشیائی جھیلیں پھٹنے ، اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کےخطرات سے خبردار کر دیا ۔27 جون سے 3 جولائی 2026 تک مون سون کی بارشیں بھی متوقع ہے۔
گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں گلیشیائی برف پگھلنے سے دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ تیز اور پانی کی سطح اچانک بلند ہونے کا خدشہ ہے۔ سیاحوں ، مسافروں اور مقامی افراد کو گلیشیئرز سےنکلنے والے ندی نالوں اور دریا کناروں سے دوررہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الرٹ میں کہا گیا ہے کہ ہنزہ ، نگر، غذر، اسکردو ، شگر ، گانچھے ، کھرمنگ ، استور ، دیامر کے باسی خصوصی احتیاط برتیں ۔ اپر و لوئر چترال ، سوات اور ملحقہ علاقوں میں بھی موسم میں تبدیلیوں سے ہوشیار رہیں۔
گلیشیئرز سے ملحقہ وادیوں اور آبادیوں میں خطرات کے پیش نظر مقامی انتظامیہ الرٹ رہے۔ دریاؤں ، ندی نالوں ، گلیشیائی جھیلوں اور دریا کناروں کے قریب نقل و حرکت سے گریز کیا جائے۔
این ڈی ایم اے نے ہدایت کی ہے کہ پہاڑی ندی نالوں میں پانی کی سطح اچانک بڑھنے ، پانی کے رنگ میں تبدیلی یا گلیشیئر سےغیرمعمولی آوازیں سنائی دینے پر متعلقہ انتظامیہ کو فوری اطلاع دیں ۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کیلئے مکمل تیار رہیں۔
دوسری جانب محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف حصوں میں یکم جولائی سے مون سون کے آغاز کی پیشگوئی کردی۔ ترجمان محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے شمال مشرق پنجاب اور کشمیر سے مون سون کا آغاز ہونے کا امکان ہے، یکم جولائی سے ملک کے شمالی حصے اور پنجاب کے شمال مشرق حصے میں بارش ہوسکتی ہے۔





















