امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اوپن اے آئی نے حکومتی درخواست پر اپنے نئے مصنوعی ذہانت کے ماڈل جی پی ٹی 5.6 کی مکمل عوامی ریلیز مؤخر کر دی۔
رپورٹس کے مطابق ابتدائی مرحلے میں ماڈل تک رسائی صرف محدود تعداد میں ایسے شراکت داروں کو دی جائے گی جن کی جانچ پڑتال مکمل ہو چکی ہے اور جن کی تفصیلات امریکی حکام کے ساتھ بھی شیئر کی گئی ہیں۔
اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ جدید اے آئی ماڈلز سے وابستہ قومی سلامتی کے خدشات کے پیشِ نظر کیا گیا ہے، کیونکہ امریکی پالیسی ساز طاقتور مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات پر زور دے رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ مصنوعی ذہانت کے محفوظ استعمال کے لیے نیا فریم ورک تیار کر رہی ہے، جبکہ اوپن اے آئی بھی حکومتی سیکیورٹی سفارشات پر عمل درآمد کر رہی ہے۔
کمپنی نے اپنے بلاگ میں کہا ہے کہ محدود پیمانے پر ریلیز ایک عارضی اقدام ہے، جس کا مقصد مستقبل میں جدید اے آئی ماڈلز کی لانچنگ کے لیے حکومت کے ساتھ ایک جامع اور قابلِ عمل طریقہ کار وضع کرنا ہے۔
اوپن اے آئی کے مطابق جی پی ٹی 5.6 کی صلاحیتوں اور لانچ پلان سے متعلق امریکی حکام کو پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق رواں ماہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے، جس کے تحت اے آئی ڈویلپرز رضاکارانہ بنیادوں پر اپنے جدید ماڈلز کو قابلِ اعتماد شراکت داروں کو جاری کرنے سے قبل زیادہ سے زیادہ 30 روز تک امریکی حکومت کے جائزے کے لیے پیش کر سکیں گے۔
رپورٹس کے مطابق نئی سیریز میں سول جی پی ٹی 5.6 کمپنی کا اب تک کا سب سے جدید ماڈل ہوگا، جبکہ ٹیرا درمیانے درجے اور لونا کم لاگت والا ماڈل ہوگا۔ اضافی سیکیورٹی جائزے مکمل ہونے کے بعد ان ماڈلز کو مرحلہ وار وسیع پیمانے پر متعارف کرایا جائے گا۔






















