وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیرِ صدارت سینٹرل ڈیویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں اربوں روپے مالیت کے بڑے انفراسٹرکچر اور جدید ٹیکنالوجی کے منصوبوں کی منظوری دی گئی ۔ وزیرِ منصوبہ بندی نے منصوبوں کو 'اڑان پاکستان وژن' کا حصہ قرار دیا۔
وزارتِ منصوبہ بندی کے مطابق سی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس میں 34 ارب 74 کروڑ روپے مالیت کے 15 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی جبکہ 431 ارب روپے کی بھاری مالیت کے 9 بڑے منصوبے حتمی منظوری کے لیے ایکنک کو بھجوا دیئے گئے۔ ان منصوبوں میں آئی ٹی، صحت، توانائی اور سڑکوں کی تعمیر شامل ہے۔
اجلاس میں آزاد کشمیر کے اسپتالوں کے لیے سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی مشینوں کی فراہمی، جامعات میں ای اسپورٹس ارینا اور تربیتی مراکز کے قیام سمیت اسلام آباد میں 'روبوٹکس سینٹر آف ایکسی لینس' اور 'جیو اے آئی ڈویلپمنٹ اینڈ انوویشن ہب' کے قیام کی منظوری دی گئی ہے۔
توانائی اور مواصلات کے شعبے میں لاہور میں جدید اسمارٹ بجلی میٹرز کی تنصیب اور آزاد کشمیر میں بجلی کے نظام کی بہتری کے لیے 10 ارب روپے کا منصوبہ منظور کیا گیا ہے۔
دوسری جانب قومی مصنوعی ذہانت پروگرام، 'قومی ایمرجنگ ٹیکنالوجیز ڈیٹا سینٹر' اور 'پاک سیٹ-ٹو' سیٹلائٹ منصوبے ایکنک کو بھجوا دیئے گئے ۔ لالہ موسیٰ بائی پاس، ایم ایل-تھری ریلوے اپ گریڈیشن اور رتھوعہ ہریام پل منصوبہ بھی ایکنک کو بھجوانے کی سفارش کی گئی ہے۔
وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نےترقیاتی منصوبوں کو اڑان پاکستان وژن کا حصہ قرار دیتے ہوئے ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری پر زور دیا، کہا ڈیجیٹل معیشت اور جدید انفراسٹرکچر کے فروغ پر توجہ مرکوز ہے۔





















