پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ترمیمی بل 2026 کی متنازع شقوں پر بڑھتے ہوئے عوامی اور پارلیمانی اعتراضات کے بعد وزیراعظم نے بل کا ازسرنو جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کی دس رکنی کمیٹی تشکیل دے دی،کمیٹی تین روز کے اندر اپنی سفارشات اور رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔
وفاقی وزیرقانون اعظم نذیرتارڑکی سربراہی میں قائم کمیٹی میں وفاقی وزیرآئی ٹی شزا فاطمہ،وفاقی وزیراقتصادی امور،اٹارنی جنرل ،سینیٹر شیری رحمان،رکن قومی اسمبلی جاویدحنیف اور بیرسٹرظفر اللہ سمیت دیگرارکان شامل ہیں،کمیٹی میں اپوزیشن کوکوئی نمائندگی نہیں دی گئی،تاہم واضح کیاگیاہےکہ ضرورت پڑنے پرکمیٹی میں مزید ارکان کو شامل کیاجاسکتا ہے۔
کمیٹی کوبل کی متنازع شقوں کاقانونی،آئینی اور انتظامی پہلوؤں سےجائزہ لینےکی ذمہ داری سونپی گئی ہے،کمیٹی نجی املاک تک رسائی بشمول انفرادی ملکیت کی حامل املاک،ہاؤسنگ سوسائٹیزاور دیگر اجتماعی ملکیت کے اداروں سےمتعلق احکامات کاجائزہ لےکرٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کی تنصیب اور حقوقِ ملکیت کے تحفظ کےدرمیان ایک مناسب توازن قائم کرنےکی سفارش کرے گی۔





















