وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس دوران دونوں رہنماؤں نے ایران، امریکہ امن معاہدے کی پیشرفت کا جائزہ لیا جبکہ علاقائی استحکام اور پاکستان سعودی عرب اقتصادی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور امن کوششوں پر گفتگو کی گئی۔
وزیراعظم نے اسلام آباد امن معاہدے پر دستخط کے موقع پر سعودی ولی عہد کو مبارکباد دی اور پاکستان کی امن کوششوں کی مسلسل حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کی حمایت سے ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کی راہ ہموار ہوئی۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے وزیراعظم شہباز شریف کو تاریخی امن معاہدے پر مبارکباد دی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو سراہا۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے اگلے مرحلے کی کامیابی ناگزیر ہے اور امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف چوکنا رہنا ہوگا۔
گفتگو میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جامع اقتصادی پیکیج کو حتمی شکل دینے پر بھی آمادگی ظاہر کی گئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ پیکیج سعودی ولی عہد کی سرپرستی میں طے پائے گا۔
وزیراعظم نے سعودی ولی عہد کو دورۂ پاکستان کی دعوت کا اعادہ کیا اور خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ دونوں ممالک نے آئندہ بھی قریبی رابطے اور مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کی ثالثی کی بدولت خطے و عالمی امن کے قیام کے بعد تیل کی قیمتوں کے حوالے سے جاری کر دیاہے ۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ خطے میں معاشی صورتحال میں بہتری آنے اور تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ فوری طور پر عوام کی جانب منتقل کررہے ہیں۔ جو وعدہ قوم سے کیا تھا، الحمدللہ وہ پورا کرنے جا رہے ہیں۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ پیٹرول کی قیمت میں 74 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے کمی کی جارہی ہے۔اس طرح پٹرول کی فی لیٹر قیمت 373 روپے سے کم ہو کر 299 روپے پر آ جائے گی اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378 روپے سے کم ہو کر 311 روپے پر آ جائے گی۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے، آپ نے مشکل صورتحال صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا۔ ان مشکل حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں۔ اس بحران کے آغاز سے ہی ہم نے اپنے وسائل سے تیل کی قیمتوں میں جس قدر ہو سکا کمی لانے کی کوشش کی۔ وفاقی حکومت نے ترقیاتی بجٹ سے اور کفایت شعاری سے کی گئی بچت کے ذریعے 129 ارب استعمال کرکے، ملک بھر کے عوام کو تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے سے ممکنہ حد تک ریلیف فراہم کیا۔
وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ خطے کی معاشی صورتحال کے دوران جب کچھ ممالک میں فیول راشننگ جیسے اقدامات لیے جا رہے تھے، حکومت پاکستان کی بہتر منصوبہ کی بدولت توانائی کا بحران نہیں آیا۔ موثر اقدامات کی بدولت ، نہ کوئی لائن لگی، نہ لمبی قطاریں لگیں، اور نہ ہی عوام کو کسی قسم کی پیٹرولیم مصنوعات کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے وفاق اور صوبوں نے مکمل تعاون کیا جس کے لیے میں صوبائی وزرائے اعلی کا شکر گزار ہوں۔ جس قدر ممکن ہوا عوام کو عالمی مہنگائی کی لہر سے محفوظ رکھنے کیلئے اقدامات اٹھائے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جو کمی آئے گی وہ من و عن عوام کو منتقل کررہے ہیں۔معاشی استحکام برقرار رکھنے اور مہنگائی میں مزید کمی کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھیں گے۔ بحران کے پورے عرصے میں نہ صرف حکومتی سطح پر کفایت شعاری کو اپنایا گیا بلکہ ریلیف کی مد میں محروم طبقات کو سبسڈی بھی فراہم کی گئی۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اللہ کے فضل سے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال میں پاکستان کی ثالثی کی بدولت امن ممکن ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو عزت بخشی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے، جو ایک تاریخی دستاویز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ عزت و اکرام اپنی کمال مہربانی سے تمام پاکستانیوں کو عطا فرمایا۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر خصوصی مبارک باد کے مستحق ہیں جن کی انتھک محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی بدولت یہ امن معاہدہ ممکن ہوا۔ نائب وزیرِ اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی اور حکومت پاکستان کی پوری ٹیم جو امن کی ان کوششوں میں خلوص نیت کے ساتھ سرگرم عمل رہی، کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں. اس کے علاوہ معاشی ٹیم، جن میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک، سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری پیٹرولیم اور چیئرمین ایف بی آر شامل ہیں، نے معاشی بحران میں قابل قدر کوششیں کیں، جو قابل ستائش ہیں.






















