نئے مالی سال میں نان ٹیکس ریونیو کی مدمیں حکومت کے پاس 5 ہزار 335 ارب روپے جمع ہوں گے، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سےکمائی کرنے والوں پر بھی ٹیکس لگے گا،رواں سال کے مقابلے میں عوام سے 178 ارب اضافی پیٹرولیم لیوی بھی وصول کی جائے گی,قابل تقسیم آمدن سے صوبوں کو 8 ہزار 848 ارب روپے ملیں گے۔
نئے مالی سال کے بجٹ میں حکومت نے ٹیکس آمدن کےساتھ ساتھ نان ٹیکس ریونیو کے اہداف بھی نمایاں طور پربڑھادیئے،بجٹ دستاویزات کےمطابق نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 5 ہزار 335ارب روپےجمع کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
حکومت کواسٹیٹ بینک کےمنافع سے ایک ہزار 435ارب روپےسےزائد حاصل ہونے کی توقع ہے جبکہ سول ایڈمنسٹریشن سےمجموعی طور پر ایک ہزار 480 ارب روپے آمدن متوقع ہے،صوبوں سےگرانٹس اور مختلف محصولات کی مد میں ایک ہزار 35 ارب روپےجبکہ سرکاری جائیدادوں اور اثاثوں سے حاصل ہونے والی آمدن 435 ارب روپے سے تجاوز کر جائے گی۔۔
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی کا ہدف بھی بڑھا دیا گیا،آئندہ مالی سال کے دوران پیٹرولیم لیوی سے ایک ہزار 676ارب روپےسے زائد وصول کرنے کا منصوبہ،قدرتی گیس کی رائلٹی سے 95 ارب جبکہ پاسپورٹ فیس اور دیگرسرکاری خدمات سے 73 ارب روپےحاصل ہونے کا تخمینہ ہے۔
دوسری جانب حکومت نے یوٹیوب، انسٹاگرام، فیس بک اور ٹک ٹاک سمیت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے آمدن حاصل کرنے والے افراد پر 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کردیا،بینکوں کو کٹوتی کا اختیار ہوگا۔
قابل تقسیم محاصل سے صوبوں کو مجموعی طور پر8 ہزار 848 ارب روپے منتقل کئے جائیں گے جو رواں مالی سال کے مقابلے میں ایک ہزار 257 ارب روپے زیادہ ہیں۔پنجاب کو 4 ہزار 402ارب روپے، سندھ کو 2ہزار 207ارب روپے، خیبرپختونخوا کو ایک ہزار 443ارب روپے جبکہ بلوچستان کو 795 ارب روپے ملیں گے۔۔اس کے علاوہ گیس ڈیویلپمنٹ سرچارج اور دیگر مالیاتی ٹرانسفرز کی مد میں صوبوں کو مزید 213ارب روپے بھی فراہم کئے جائیں گے۔۔






















