بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر ہوا کے اخراج کی صورتحال اچانک سنگین ہونے کے بعد پانچ خلانوردوں کو تقریباً 2 گھنٹے تک ہنگامی کیپسول میں پناہ لینا پڑی اور انخلا کی تیاریاں کرنی پڑیں، تاہم بعد میں امریکی خلائی ادارے ’ناسا‘ نے یہ الرٹ منسوخ کردیا۔
یہ ہنگامی صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب روس نے خلائی لیبارٹری کے اپنے حصے میں موجود ایک دراڑ کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی جس پر ناسا کو شدید تحفظات تھے۔
ناسا کی ترجمان بیتھنی اسٹیونز کے مطابق جمعے کی صبح ہوسٹن میں قائم مشن کنٹرول نے اسٹیشن پر موجود خلانوردوں سمیت ایک اور امریکی خلانورد کو فوری طور پر خلائی اسٹیشن کے ساتھ جڑے ’اسپیس ایکس کرو ڈریگن‘ متبادل جہاز میں داخل ہونے کا حکم دیا۔
تقریباً دو گھنٹے بعد جب ہوا کے اخراج کی شرح کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا گیا اور روس نے دراڑ کی مرمت کا کام عارضی طور پر روک دیا، تو ناسا نے اپنا حکم واپس لیتے ہوئے خلانوردوں کو خلائی اسٹیشن پر لوٹنے کی اجازت دے دی۔
روسی خلائی ادارے کا کہنا ہے کہ ان کے ماہرین نے اسٹیشن پر دو جگہوں سے اخراج کا پتا لگایا ہے جن میں سے ایک کو فوری طور پر بند کر دیا گیا جبکہ دوسرے کو بند کرنے کی تیاریاں جاری ہیں، اور اس سے عملے یا جہاز کے سسٹمز کو کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں ہے۔
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر اس وقت 2 مختلف مشنز کے 7 خلانورد موجود ہیں، جن میں فروری میں پہنچنے والے ناسا کے جیسیکا میر، جیک ہتھاوے، یورپی خلائی ادارے کی سوفی ایڈنوٹ، روسی اینڈرے فیڈیایف اور نومبر سے موجود امریکی کرسٹوفر ولیمز شامل ہیں۔




















