سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی نظرثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔
کیس کی سماعت جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی۔ عدالتِ عظمیٰ نے نظرثانی درخواست پر تقریباً چار گھنٹے طویل سماعت کے بعد اپنا فیصلہ سنایا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مجرم ظاہر جعفر کی نظرثانی درخواست مسترد کر دی، جس کے بعد اس کی سزائے موت برقرار رہے گی۔
سماعت کے دوران مجرم ظاہر جعفر کی جانب سے خواجہ حارث ایڈووکیٹ نے دلائل پیش کیے، جبکہ مقتولہ نور مقدم کے والدین کی جانب سے شاہ خاور ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور مقدمے کی پیروی کی۔





















