آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں ملک کے 20 پسماندہ ترین اضلاع کیلئے 40 ارب روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے صرف ایک ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
سماء کو حاصل ہونے والی بجٹ دستاویزات کے مطابق پسماندہ اضلاع کی ترقی کے منصوبوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ارکانِ پارلیمنٹ اور حکومتی اتحادیوں کیلئے بڑے پیمانے پر فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ دستاویزات کے مطابق پارلیمنٹیرینز کیلئے 70 ارب روپے جبکہ اتحادی ارکان کیلئے 87 ارب روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک کے غریب ترین اضلاع کی ترقی کا منصوبہ 2022 سے مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
پسماندہ ترین اضلاع میں خضدار، واشک، کوہلو، موسیٰ خیل، ژوب، ڈیرہ بگٹی، قلعہ سیف اللہ، قلات، شیرانی، چاغی، تھرپارکر، بدین، عمرکوٹ، ٹنڈو محمد خان، کوہستان، شمالی وزیرستان، بٹگرام، شانگلہ، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور شامل ہیں۔
دستاویزات کے مطابق نئے مالی سال کے بجٹ میں پلاننگ ڈویژن کیلئے 27 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ فنڈز 10 جاری ترقیاتی منصوبوں اور 10 خصوصی اقدامات پر خرچ کیے جائیں گے۔
2022 کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کیلئے سب سے زیادہ 21 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ دستاویزات کے مطابق 45 ارب 78 کروڑ روپے لاگت کے منصوبے پر رواں سال جون تک 23 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہوں گے۔
نیشنل سینٹر فار برانڈ ڈیولپمنٹ کے ایک ارب 85 کروڑ روپے مالیت کے منصوبے کیلئے 40 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
وزیراعظم انوویشن سپورٹ اینڈ اسٹارٹ اپ گرانٹس پروگرام کیلئے بھی 40 کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ اس منصوبے کی مجموعی لاگت 9 ارب 64 کروڑ روپے ہے اور اب تک 63 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔
اسی طرح 2 ارب 45 کروڑ روپے مالیت کے سی پیک سیکرٹریٹ منصوبے کیلئے 30 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ سی پیک سینٹر آف ایکسیلنس اکیڈمی کیلئے آئندہ بجٹ میں 10 کروڑ روپے رکھنے کی سفارش سامنے آئی ہے۔




















