بلوچستان حکومت کا آئندہ مالی سال کا بجٹ 1100 ارب روپے سے زائد ہونے کا امکان ہے۔ بجٹ میں تعلیم، صحت، امن و امان اور عوامی فلاح کے شعبوں کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
ذرائع محکمہ خزانہ بلوچستان کے مطابق صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی آئندہ مالی سال کا بجٹ بلوچستان اسمبلی میں پیش کریں گے۔ بجٹ کو سرپلس رکھنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے ۔
ذرائع کے مطابق تعلیم کے شعبے کے لیے سب سے زیادہ فنڈز مختص کیے جانے کی تجویز ہے اور اس مد میں 150 ارب روپے سے زائد رکھنے کا امکان ہے۔ اسی طرح صحت، بنیادی عوامی خدمات اور امن و امان کے شعبوں کے لیے بھی خطیر رقوم مختص کی جائیں گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں وفاقی حکومت کی طرز پر اضافے کی تجویز بھی زیر غور ہے، تاہم حتمی فیصلہ بجٹ کی منظوری کے وقت کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق آئندہ بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاح، انسانی ترقی، تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری پر خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ صوبے میں ترقیاتی عمل کو مزید تیز کیا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ کی تیاری کا عمل آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور مختلف شعبوں کے لیے مالیاتی تجاویز کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔





















