پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر کے سالانہ ٹیکس ہدف میں دوسری بار کمی کر دی گئی، ایف بی آر دو بار نظرثانی کے باوجود اہداف پورے نہ کر سکا۔
اصل ٹیکس ہدف میں مجموعی طور پر 1 ہزار 126 ارب روپے کی بڑی کمی کردی گئی، پہلے14 ہزار 131 ارب کا اصل ہدف کم کرکے 13 ہزار 979 ارب کیا گیا تھا۔ اب دوسری نظرثانی کرکےسالانہ ہدف13 ہزار پانچ ارب روپے مقرر کردیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی 11 ماہ میں پہلے نظرثانی شدہ ہدف کی نسبت 866 ارب شارٹ فال رہا، دوسری نظرثانی کے بعد شارٹ فال یا گیپ صرف 25 ارب رہ گیا۔
جولائی تا مئی انکم ٹیکس کی مد میں 5 ہزار 602 ارب روپے جبکہ سیلز ٹیکس کی مد میں 4 ہزار 215 ارب روپے ریونیو جمع ہوئے۔ جولائی تا مئی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 744 ارب روپے سے زائد جمع ہوئے، اس دوران کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 1 ہزار 220 ارب روپے حاصل ہوئے۔
مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں 550 ارب روپے کے ریفنڈز بھی جاری کئے گئے، ایف بی آر نے مئی 2026 میں اب تک 966 ارب روپے ٹیکس اکھٹا کیا، انم ٹیکس کی مد میں ماہانہ بنیاد پر 459 ارب روپے جمع کئے گئے، اس دوران سیلز ٹیکس کی مد میں 386 ارب روپے سے زائد اکھٹے ہوئے۔
مئی 2026 میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 72 ارب ریونیو جمع ہوا، کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں ماہانہ بنیاد پر تقریباً 100 ارب روپے حاصل ہوئے، مئی میں 50 ارب روپے سے زائد کے ریفنڈز جاری کئے گئے۔





















