بجٹ میں خوراک اور روزمرہ ضروری اشیاء پر بھاری ٹیکس برقرار رہنے کا امکان ہے،بنیادی غذائی آئٹمز اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس اور ڈیوٹیز کی وصولی جاری ہے۔
دستاویز کےمطابق سفیدکرسٹلائن چینی پر 20 فیصدکسٹمزڈیوٹی اور 4 فیصداضافی ڈیوٹی کی وصولی کی جارہی ہے،ویجیٹبل گھی ،کوکنگ آئل ،چائےکی پتی ،چینی،خشک دودھ ،تیارشدہ خوراک،بجلی اور گیس پر 18فیصد سیلزٹیکس بھی نافذ ہے،مختلف اقسام کی ادویات پر بھی ایک فیصد سیلزٹیکس لیاجا رہا ہے۔
دستاویز کےمطابق چکن پر 20 فیصدکسٹمز اور4فیصد اضافی کسٹمز ڈیوٹی نافذہے،انڈوں پر 3 فیصد سے لےکر 16 فیصد تک کسٹمز ڈیوٹی کی وصولی جاری ہےجبکہ ریگولیٹری ڈیوٹی اس کےعلاوہ ہے,آلو پر 20 فیصدریگولیٹری ڈیوٹی،ٹماٹر اورپیاز پر پانچ پانچ فیصد کسٹمز ڈیوٹی نافذ ہے ۔
اس کے علاوہ گندم اور چاول پردس دس فیصد جبکہ گندم کے آٹے پرپانچ فیصد کسٹمز ڈیوٹی لی جا رہی ہے, خام سویابین آئل پرساڑھے دس ہزار روپےفی میٹرک ٹن کسٹمز ڈیوٹی اوردو فیصد اضافی کسٹمز ڈیوٹی بھی عائد کی گئی ہے,ویجیٹبل آئل پر دس ہزار آٹھ سو روپے فی میٹرک ٹن کسٹمز ڈیوٹی اور دس فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی,خام کوکنگ آئل پر آٹھ ہزار روپے فی میٹرک ٹن کسٹمز ڈیوٹی لاگو اور دو فیصد اضافی کسٹمز ڈیوٹی نافذ ہے ۔





















