نائب وزیراعظم اسحاق ڈارکی نیویارک میں یواین سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سےملاقات کی، دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور پائیدار امن کیلئے پاکستان کی ثالثی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا ۔
دفترخارجہ کےمطابق ملاقات میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات پر بھی بات چیت ہوئی ۔ اسحاق ڈار نے زوردیا کہ سلامتی کونسل میں اصلاحات برابری اور شفافیت کی بنیاد پر ہونی چاہییں،نائب وزیراعظم نےبھارتی قیادت کے اشتعال انگیز بیانات پر تشویش کا اظہارکیا اورکہا کہ ایسی بیان بازی خطے کے امن کیلئے خطرہ ہے،یہ بھی واضح کی بھارت کی جانب سےسندھ طاس معاہدےکی یکطرفہ معطلی عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے،مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کے مظالم کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے بنیادی معاملہ ہے۔
اسحاق ڈار نےجنوبی ایشیا میں استحکام کیلئےپرامن افغانستان ناگزیر قرار دیا،دہشت گرد گروپوں کی جانب سے افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان اپنی سلامتی،خودمختاری اور پاکستانی عوام کے تحفظ کیلئے ملکی اور عالمی قوانین کے تحت ہرممکن کارروائی کرے گا،نائب وزیراعظم نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا ۔





















