لاس ویگاس میں ہونے والی ٹیکنالوجی نمائش میں این ویڈیا نے ایک نیا اوپن سورس مصنوعی ذہانت کا نظام متعارف کرایا ہے جس کا نام "البامیڈو" رکھا گیا ہے، جو خودکار گاڑیوں اور روبوٹکس کو انسانوں کی طرح سوچنے اور فیصلے کرنے کے قابل بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ ٹیکنالوجی پیچیدہ ٹریفک حالات میں زیادہ محفوظ اور قابلِ وضاحت فیصلوں کو ممکن بنائے گی، خاص طور پر ان غیر معمولی صورت حال میں جہاں روایتی سسٹمز اکثر ناکام ہو جاتے ہیں۔
اے آئی کا نیا تصور: انسانوں جیسی سوچ
این ویڈیا کے سی ای او جینسن ہوانگ نے اس لانچ کو "فزیکل اے آئی کا چیٹ جی پی ٹی لمحہ" قرار دیا ہے، جس میں مشینیں نہ صرف ردعمل دیتی ہیں بلکہ حقیقی دنیا کو سمجھنے، تجزیہ کرنے اور فیصلے کرنے کے قابل ہو جاتی ہیں۔
البامیڈو ایک 10 ارب پیرامیٹرز پر مشتمل وژن-لینگویج-ایکشن ماڈل ہے جو "چین آف تھاٹ" (مرحلہ وار سوچ) کے ذریعے پیچیدہ حالات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
خودکار گاڑیوں کے لیے بہتر فیصلہ سازی
روایتی خودکار نظام عام طور پر سینسر ڈیٹا پر فوری ردعمل دیتے ہیں، لیکن نیا ماڈل غیر مانوس صورتحال کو مرحلہ وار تجزیہ کرتا ہے۔
مثال کے طور پر اگر کسی مصروف چوراہے پر ٹریفک سگنل خراب ہو جائے تو یہ سسٹم ممکنہ راستوں کا جائزہ لے کر سب سے محفوظ فیصلہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ نظام صرف اسٹیئرنگ یا بریکنگ کنٹرول نہیں کرتا بلکہ اپنے فیصلے کی وجہ بھی بیان کرتا ہے، جس سے شفافیت میں اضافہ ہوتا ہے۔
اوپن سورس ماڈل اور ڈیولپرز کے لیے سہولت
این ویڈیا نے اس ماڈل کا بنیادی کوڈ اوپن سورس پلیٹ فارم پر جاری کیا ہے تاکہ ڈیولپرز اسے اپنی ضروریات کے مطابق بہتر بنا سکیں۔
یہ ماڈل چھوٹے اور تیز ورژنز میں ڈھال کر گاڑیوں کے نظام میں استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ خودکار لیبلنگ اور ڈیٹا ویلیڈیشن جیسے ٹولز کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
مصنوعی ڈیٹا اور ورلڈ ماڈلز
این ویڈیا کا ایک پلیٹ فارم بھی اس نظام کا حصہ ہے جو مصنوعی ماحول بنا کر خودکار گاڑیوں کی تربیت میں مدد دیتا ہے۔
یہ طریقہ حقیقی دنیا کے ڈیٹا پر مکمل انحصار کم کرتا ہے اور مختلف خطرناک یا نایاب حالات کی بہتر تربیت ممکن بناتا ہے۔
کمپنی نے 1700 گھنٹوں سے زائد ڈرائیونگ ڈیٹا پر مشتمل ایک اوپن ڈیٹاسیٹ بھی جاری کیا ہے، جس میں مختلف ممالک، موسموں اور ٹریفک حالات کی مثالیں شامل ہیں۔
سمولیشن سسٹم: حقیقی دنیا کی نقول
این ویڈیا نے ایک اوپن سورس سمولیشن فریم ورک بھی متعارف کرایا ہے جو حقیقی ٹریفک، سینسرز اور سڑکوں جیسے حالات کو ڈیجیٹل طور پر دوبارہ تخلیق کرتا ہے۔
یہ نظام خودکار گاڑیوں کی بڑے پیمانے پر جانچ اور بہتری میں مدد دے گا تاکہ انہیں حقیقی دنیا میں زیادہ محفوظ بنایا جا سکے۔
مجموعی طور پر یہ اعلان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ خودکار گاڑیوں کی ٹیکنالوجی اب صرف ردعمل دینے کے بجائے سوچنے، سمجھنے اور فیصلہ کرنے کے نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔






















