متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں کی مبینہ بے دخلی کے معاملہ کی سینیٹ میں گونج ۔۔ اجلاس کی چیئرپرسن شیری رحمان نے حکومت کی مخالفت کے باوجود معاملہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا ۔ وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے اعتراف کیا کہ یو اے ای سے 3 ہزار 494 پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا ۔ تاہم درست ویزے پر آمدورفت کی بدستور آزادی ہے ۔
قائد حزب اختلاف راجا ناصر عباس نے توجہ دلاؤ نوٹس کے ذریعے ایوان میں معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا دعویٰ کیا کہ یو اے ای سے ہزاروں پاکستانیوں کو واپس بھجوایا گیا ہے۔ متعدد افراد کو قانونی ضابطے مکمل کئے بغیر بےدخل کیا گیا ۔ پاکستانیوں کے اربوں روپے متحدہ عرب امارات میں پھنس گئے ہیں ۔ حکومت متاثرہ پاکستانیوں کی داد رسی کرے اور بے دخلیوں کو رکوائے ۔ یو اے ای میں زیر حراست پاکستانیوں کی رہائی بھی ممکن بنائی جائے ۔ راجا ناصر عباس نے دعویٰ کیا کہ مختلف ممالک سے ایک لاکھ 64 ہزار پاکستانیوں کو ڈیپورٹ کیا گیا ہے ۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے جواب میں مؤقف اپنایا متحدہ عرب امارات پاکستان کے ساتھ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔ یو اے ای ایک آزاد و خودمختار ملک ہے جس کے اپنے قوانین ہیں ۔ وہاں کسی مخصوص ملک کے شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جا رہا ۔ ہمیں یو اے ای کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے ۔ قائد حزب اختلاف کے مطالبے پر چیئرپرسن شیری رحمان نے معاملہ قائمہ کمیٹی کے حوالے کرتے ہوئے ہدایت کی کہ کمیٹی کا اجلاس اِن کیمرہ رکھا جائے ۔ اور پاکستانیوں کے مفادات کا تحفظ حکومت کی ترجیح ہونا چاہیے ۔






















