وفاقی وزیرمواصلات عبدالعلیم خان کا کہنا ہےکہ نئی سڑکوں کی تعمیر اور پرانی سڑکوں کی مرمت ٹول ٹیکس کی آمدن سے ہی ممکن ہے۔
سینیٹ میں وقفہ سوالات کےدوران جواب دیتےہوئےعبدالعلیم خان کاکہنا تھاکہ اس وقت قومی شاہراہوں پرایک سونو ٹول پلازہ قائم ہیں،جہاں سڑکوں کی حالت خراب ہےوہاں ٹول پلازوں کو غیرفعال رکھنے کی ہدایت دی ہے۔
انہوں نےکہاکہ پی ایس ڈی پی میں وزارت مواصلات کا حصہ مسلسل کم ہو رہا ہے،ٹول کی آمدن بڑھا کر ہی سڑکوں کی حالت بہتربنائی جاسکتی ہے،جب تک ہم اپنےفنڈز نہیں بڑھائیں گے سڑکیں ٹھیک نہیں کر سکیں گے۔
وفاقی وزیرمواصلات نے اوور لوڈنگ کوسڑکوں کی تباہی کی بڑی وجہ قرار دیا،کہا ٹرک ایکسل لوڈ سے زیادہ وزن لے کر چلتے ہیں،جو سڑک بیس سال کےلیےبنتی ہے،تین چارسال میں ٹوٹ جاتی ہے ۔یقین دلاتا ہوں کہ سڑکوں کی حالت بہتر ہوگی اور نئی سڑکیں بھی بنیں گی۔
عبدالعلیم خان نےمزید بتایا کہ سکھر حیدرآباد موٹروے منصوبے پر پیش رفت جاری ہے۔ پانچ میں سے تین سیکشنز کی منظوری ہو چکی ہے اور اگست یا ستمبر تک عملی کام شروع ہونے کا امکان ہے۔





















