امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کا تین روزہ دورہ مکمل کرکے واپس روانہ ہوگئے۔
دورے کے آخری روزامریکی صدرکی چینی صدر شی جن پنگ سے ناشتے کی میز پر ملاقات ہوئی،اس موقع پرصدرٹرمپ نےکہاکہ ایران کےمعاملے پر چین اورامریکا کا موقف ایک ہے،ہم نہیں چاہتے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوں،ہم چاہتے ہیں کہ آبنائے کھلی رہے۔
صدرشی جن پنگ سےکئی امور پرگفتگو ہوئی جو اچھی رہی،چین مرحلہ وار اپنی مارکیٹ کھولے گا،امریکا سےتیل اور زرعی مصنوعات خریدےگا،دونوں ممالک کے درمیان ویزا کمپنیوں اورتجارتی معاملات پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔
امریکی صدر نےکہا یہ ایک غیرمعمولی دورہ رہا،میرا خیال ہے اسکے بہت اچھےنتائج نکلے ہیں،ہم نے چند شاندار تجارتی معاہدے کیے،ہم نے ایران کے معاملے پر بھی بات کی،اس حوالے سے ہماری سوچ کافی حد تک ایک جیسی ہے۔
امریکی صدر نےمزید کہا چینی صدر تہران کیساتھ معاہدےتک پہنچنے کے خواہاں ہیں،صدر شی ایران پر اثر انداز ہوسکتے ہیں، ایران کے معاملے پر زیادہ صبرکامظاہرہ نہیں کریں گے، ایرانی جوہری تنصیبات ہماری نگرانی میں ہے،کوئی ہلچل ہوئی توفوجی ردعمل کاسامنا کرناپڑےگا،ایران کی مکمل ناکہ بندی جاری رہےگی،کسی جہاز کو ایران میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی، ایرانی قیادت میں جوہری پروگرام پر اختلافات موجود ہے،جس قیادت سےامریکا رابطےمیں ہےوہ معقول رویہ رکھتی ہے۔
اس سےپہلےفاکس نیوز سے گفتگو کرتےہوئے امریکی صدر نےکہاچینی صدر نےایران کے ساتھ ڈیل میں مدد کی پیشکش کی،یقین دہانی کرائی کہ وہ ایران کو فوجی سازوسامان فراہم نہیں کریں گے
چینی صدرشی جن پنگ نےکہا دونوں ممالک کے درمیان ایک نیا تعلق قائم کیا ہے،ہمارا تعلق تعمیری اور اسٹریٹجک نوعیت کا ہے،یہ دورہ ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا جا سکتا ہے،مختلف شعبوں میں تعاون کی کئی اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔






















