ترجمان چینی دفتر خارجہ نے جاپانی وزیراعظم کے دورہ بھارت کے حوالے سے دونوں ممالک کو خبردار کردیا۔
جاپانی وزیراعظم کے دورہ بھارت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر چینی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ جاپان اور بھارت کا دوطرفہ تعاون جاپان اور بھارت کے تعاون کا مقصد چین کو ہدف بنانا نہیں ہونا چاہیے، دو ملکوں کا تعاون کسی تیسرے ملک کے مفاد کے خلاف نہیں ہونا چاہیے۔
واضح ہے کہ چند روز قبل چین نے جاپان کے خلاف بڑا قدم اٹھاتے ہوئے جاپان کی 20 کمپنیوں اور تنظیموں کو بلیک لسٹ میں شامل کر لیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا نے چینی وزارت خارجہ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ چین نے جاپان کے ان اداروں پر ایسے سامان کی برآمدات پر پابندی عائد کی گئی ہے، جو فوجی اور شہری دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔
چین نے 20 جاپانی اداروں کو واچ لسٹ میں بھی شامل کیا گیا ہے، جنہیں حساس اشیا کی درآمد سے قبل اضافی جانچ اور ضروری ضمانتیں فراہم کرنا ہوں گی۔
چینی وزارتِ تجارت کا کہنا ہے کہ اقدامات قومی سلامتی کے تحفظ اور بین الاقوامی ذمے داریوں کو پورا کرنے کے لیے کیے گئے ہیں، جبکہ ان پابندیوں سے معمول کے تجارتی تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔





















