امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے مستقل جنگ بندی کیلئے ایران کا جواب مسترد کردیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا ایرانی نمائندوں کی جانب سے ملنے والا جواب کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ۔ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے ۔ ایران کے افزودہ یورینئم پر پوری نظر ہے ۔ خبردار کیا کہ ملبے میں دفن ایرانی یورینئیم کے پاس جس نے بھی جانے کی کوشش کی اُسے تباہ کردیا جائے گا۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پیغام میں کہا کہ ایران 47 برس تک امریکا اور باقی دنیا سے کھیلتا رہا۔ ایرانی امریکا پر ہنستے تھے۔ اب مزید نہیں ہنسیں گے۔ باراک اوباما صدر بنے تو وہ ایرانی موقف کے حامی بن گئے۔ انہوں نے اسرائیل کو نظرانداز کرکے ایرانی کو نئی زندگی دی۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے بھی دوٹوک کہہ دیا کہ امریکی صدر ہمارے جواب سے مطمئن نہیں تو یہی بہتر ہے ۔ ٹرمپ کا جواب ہمارے لیے کوئی اہمیت بھی نہیں رکھتا۔
برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی حکام نے امریکی مطالبات کو حد سے تجاوز اور غیرمنطقی قرار دیا ۔ واضح کیا کہ امریکی پلان ٹرمپ کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے ۔ بولے ہمارا مسودہ ٹرمپ کو خوش کرنے کیلئے نہیں ۔
اِس سے پہلے ایرانی صدر نے کہا تھا دشمن کے آگے کبھی سر نہیں جھکائیں گے ۔ مذاکرات کا مطلب ہتھیار ڈالنا یا پیچھے ہٹنا نہیں ۔ امریکا سے بات چیت کا اصل مقصد ایرانی عوام کے حقوق اور مفادات کا تحفظ کرنا ہے ۔






















