وزیراعظم شہبازشریف نے معرکہ حق کی کامیابی کا ایک سال مکمل ہونے پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ معرکۂ حق اللہ تعالیٰ کے بے شمارانعامات اوراحسانات پر اُس کے حضور سجدۂ شکر بجا لانے کا دن ہے۔
شہبازشریف نے کہا کہ پاکستان نے آزمائش کی گھڑی میں دشمن کو عبرتناک شکست سے دوچار کیا، پوری قوم اپنے شہداء، اُن کے اہلِ خانہ اور ان غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے جو فولادی دیوار بن کر اپنے وطن کے دفاع کے لیے ڈٹ گئے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری افواج نے پاکستان کو ایک ناقابلِ تسخیر قوت کے طور پر منوایا، معرکۂ حق اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ پاکستانی قوم امن پسند ہے ، معرکۂ حق میں دشمن کی بلا اشتعال جارحیت کےمقابلےمیں پاکستان نےفیصلہ کن برتری حاصل کی۔
ان کا کہناتھا کہ دشمن کو حقیقت کا ایسا سبق دیا گیا جس نے اُس کے ناقابلِ شکست ہونے کے زعم کو خاک میں ملا دیا ، ہم فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو اُن کی جراتمندانہ قیادت پر بھرپور خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں ، ہم ایئرچیف مارشل اورایڈمرل نوید اشرف کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہم اپنی بہادر مسلح افواج کے افسران اور جوانوں کو بھی سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے پاکستانی قوم کی غیر متزلزل حمایت کے ساتھ پاکستان اور بھارت کے تناظر میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔پاکستان نے ایک جانب اپنے امن کے عزم کو واضح کیا، تو دوسری جانب دفاعی توازن کو بحال کرتے ہوئے اپنی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا بھرپور تحفظ یقینی بنایا۔
انہوں نے کہا کہ اس امر میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان کو کمزور کرنے یا اس کے خلاف کسی بھی جارحیت کا فوری، مؤثر اور ہمہ جہت جواب دیا جائے گا۔ ہم اپنی سرحدوں کے دفاع اور تحفظ کے لیے پُرعزم اور مکمل طور پر چوکس ہیں۔ پاکستان ’’فتنہ الخوارج‘‘اور ’’فتنہ الہندوستان‘‘ کے مکمل خاتمے اور دہشت گردی کے ناسور کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے بھی ثابت قدمی سے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
ان کا کہناتھا کہ پاکستان کا تذکرہ "کشمیر" کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا، جو برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار تزویراتی استحکام کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ یہ مسئلہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ آزادی اور حقِ خودارادیت کی ہمیشہ بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔
شہبازشریف نے کہا کہ آج پاکستان کو ایک ذمہ دار ملک کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے، جو نہ صرف اپنے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے بلکہ عالمی امن اور استحکام کے ضامن کے طور پر بھی ابھرا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع میں ایک اہم ثالث کے طور پر پاکستان کے کردار اور قیامِ امن کے لیے ہماری مسلسل کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔ پاکستان تنازع کے پُرامن حل کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔
وزیراعظم کا کہناتھا کہ آئیے، آج معرکۂ حق کا ایک سال پورا ہونے پر اپنے شہداء کی عظیم قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے اس عہد کی تجدید کریں کہ ہم ’’فولادی دیوار‘‘بن کر اپنے دشمنوں کا مقابلہ کریں گے اور اس عظیم وطن کی مقدر کی شان و عظمت کے لیے بے لوث محنت جاری رکھیں گے۔






















