ایران نے خبردار کردیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے نئے بحری نظام پر کسی بھی امریکی مداخلت کو سیزفائر کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔
سربراہ ایرانی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی ابراہیم عزیزی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کا انتظام غیر سنجیدہ یا غیر حقیقی بیانات سے نہیں چلایا جاسکتا، کسی بھی قسم کی الزام تراشی یا پروپیگنڈا قبول نہیں کریں گے۔
قبل ازیں ایران کی پارلیمنٹ کے نائب سپیکر علی نیکزاد کا کہنا ہے کہ پارلیمان سے ایک ایسا قانون منظور کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کے تحت امریکی اور اسرائیلی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
علی نیکزاد نے آبنائے ہرمز کا دورہ بھی کیا تھا۔ ان کے مطابق اس مجوزہ قانون کے مطابق دیگر ممالک کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ہوگی، تاہم انھیں ’سروس، حفاظت، ماحولیاتی تحفظ اور جہازوں کی رہنمائی‘ کے لیے فیس ادا کرنا ہوگی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے والی صورتحال میں اب واپس نہیں آئے گی۔




















