مفتاح اسماعیل نے سماء ٹی وی کے پروگرام"میرےسوال"میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیامیں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں،عوام کومشکلات ہوں گی،پاکستان نے بجلی اور تیل کی قیمتیں 50فیصد بڑھا دیں، بھارت اور بنگلادیش نے اپنے اخراجات کم کر دیئے۔
تفصیلات کے مطابق مفتاح اسماعیل نے کہا کہ کسی نے بتایا نہیں کہ کفایت شعاری سے کتنی بچت ہوئی،وزیراعظم باتیں اچھی کرتے ہیں،پھر سارا بوجھ عوام پر ڈال دیتے ہیں، پیٹرول کی قیمتیں بڑھا کر صرف کمپنیوں کو فائدہ دیا گیا، ریفائنریوں کو مارچ اور اپریل میں100،100ارب روپے سے زائد کے فائدے دیئے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں کہا گیا تھا 50 فیصد کم پیٹرول استعمال ہو گا، حکومت کو بتانا چاہیے 2ماہ میں پیٹرول میں کتنا کم خرچ ہوا، کم خرچے نظر نہیں آرہے، بار بار پیٹرول کمپنیاں، پیٹرول پمپس حکومت سے منافع خوری کرتی تھی، حکومت اپنی رٹ قائم نہیں کر سکتی،خوشی سے بغیر ڈیفالٹ رہ سکتے ہیں تو آئی ایم ایف کے پاس نہ جائیں۔
ان کا کہناتھا کہ آئی ایم ایف کے پاس تب جاتے ہیں جب سنجیدہ طریقے سے حکومت نہیں چلا پاتے، 43ارب روپے ایم این ایز کو دے دیئے گئے، اپنے اپنے علاقوں میں 25 کروڑ روپے خرچ کرو، عوام کے ٹیکس کا پیسہ حرام کا پیسہ سمجھ کر خرچ کرتے ہیں، کون ساملک نوکری پیشہ لوگوں سےاتنا ٹیکس لیتا ہے؟۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ایک موٹرسائیکل والے سے روزانہ 124 روپے ٹیکس لیا جا رہاہے،حکومت کواپنے اخراجات کم کرنا ہوں گے، وفاقی،صوبائی حکومتیں 4 ہزار ارب روپے ترقیاتی کاموں پر خرچ کرتی ہیں،عوام کے 4 ہزار ارب روپے کرپشن کی نذر ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 800ارب روپے حکومت انٹراپرائزز پر نقصان کرتی ہے، پاکستان میں بجلی،گیس پورے خطے میں سب سے مہنگی ہے،وزیراعظم جواب دیں بجلی اور گیس اتنی مہنگی کیوں ہے؟5سال سے یہ کوشش کر رہے ہیں کہ سولر والوں کو پکڑ کر پیسے لے لیں۔





















