ترکی کے مشرقی صوبے بنگول کے ضلع کارلیووا میں حزورپارٹی نے اورہان اوجی کو نیا ضلعی چیئرمین مقرر کر دیا ہے۔ تقرری کے موقع پر پارٹی کی جانب سے اوجی اور صوبائی چیئرمین سعید موچو کی ایک تصویر شیئر کی گئی، جس نے سوشل میڈیا پر غیر معمولی توجہ حاصل کر لی۔
وجہ بنی اوجی کی غیر معمولی اور انتہائی گھنی مونچھیں، جو اس قدر نمایاں ہیں کہ دیکھنے والوں کی توجہ ان کے چہرے کے دیگر خدوخال سے ہٹ جاتی ہے۔ یہاں تک کہ کئی صارفین نے مزاحیہ انداز میں سوال اٹھایا کہ کیا ان کا منہ واقعی موجود بھی ہے یا نہیں۔
اورہان اوجی نے ’’نئی بات، نئی آواز‘‘کے نعرے کے تحت بنگول کے ترک کرد علاقے میں اتحاد اور یکجہتی کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے، تاہم سوشل میڈیا صارفین کی توجہ ان کی پالیسیوں سے زیادہ ان کی مونچھوں پر مرکوز ہے۔
ان کی منفرد مونچھوں نے انٹرنیٹ پر دلچسپ تبصروں اور عرفی ناموں کی بھرمار کر دی ہے، جن میں ’’ترکش فائنل باس‘‘خاص طور پر مقبول ہو رہا ہے۔ ایک صارف نے مزاحیہ انداز میں لکھا، ’’کیا وبا ختم نہیں ہوئی؟ یہ اب بھی ماسک کیوں پہنے ہوئے ہیں؟‘‘جبکہ ایک اور نے تبصرہ کیا، ’’ان کا منہ تو ایپسٹین فائلز سے بھی زیادہ سنسرڈ لگتا ہے۔‘‘
یہ تصویر اب سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے اور صارفین کے درمیان ہنسی مذاق کا موضوع بنی ہوئی ہے۔





















