وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی کے ہفتہ وار اعدادوشمار جاری کر دیئے۔
مہنگائی میں ہفتہ وار بنیادپر اعشاریہ تینتیس فیصد کی معمولی کمی ریکارڈکی گئی،لیکن ملک میں سالانہ بنیاد پرمہنگائی کی شرح 14 فیصد تک پہنچ گئی،وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق سالانہ بنیاد پرآٹا 36 فیصد،پیاز 32 فیصد تک مہنگا ہوا،اس دوران ٹماٹرکا ریٹ 23.46 فیصد، اورسرخ مرچ کی قیمت 15 فیصد تک بڑھی،مٹن کے بھاؤ میں 15.18 فیصد،بیف 13 فیصد اورخشک دودھ کےدام میں 10.41 فیصد تک اضافہ ہوا،ایک سال میں بجلی 54 فیصد اور ایل پی جی 61 فیصد تک مہنگی ۔ پیٹرول ریٹ 44 فیصد اور ڈیزل کی قیمت 37 فیصد تک بڑھ گئی ۔
رپورٹ کےمطابق ہفتہ وار بنیاد پر 9 اشیا کی قیمتوں میں کمی آئی،جبکہ 23 کی قیمتیں مستحکم رہیں ۔ گزشتہ ہفتے ٹماٹر 28 فیصد ، پیاز 9.35 فیصد سستا ہوا ۔ لہسن، آٹا، چینی، ڈیزل اور ایل پی جی کی قیمتوں میں بھی کمی آئی،آلو، بریڈ ، کوکنگ آئل ، گھی ، انڈے ، مٹن ، چکن مہنگا ۔ دال مسور، واشنگ سوپ، کپڑوں کے دام بھی بڑھ گئے ۔
دوسری جانب وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال کی زیرصدارت نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے اجلاس میں اشیائےضروریہ کی سپلائی اورقیمتوں کا جائزہ لیاگیا،کمیٹی نےدیہی علاقوں میں غیرمعیاری اشیا کی فروخت کا نوٹس لےلیا۔
احسن اقبال نے غیرمعیاری اشیا پر قابو پانے کیلئے مؤثر اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ قیمتوں میں استحکام کے لئے تمام صوبائی اور وفاقی ادارےچوکس رہیں ،اشیائے ضروریہ کا وافر ذخیرہ بھی یقینی بنایا جائے،عالمی دباؤ کےباوجودملک میں کھاد کی قیمتیں مستحکم رہناخوش آئند ہے،مرغی کی قیمتیں خلیج جنگ سےپہلےکی صورتحال پرواپس آ چکیں،پولٹری سیکٹر میں کولڈ چین انفراسٹرکچر سے متعلق تجاویز 5 دن میں مرتب کی جائیں۔





















