پینٹاگون کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کے عمل میں 6 ماہ تک لگ سکتے ہیں اور غالب امکان ہے کہ یہ کارروائی امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے بعد ہی شروع کی جائے۔ حکام کے مطابق جنگ کے بعد بارودی سرنگیں ہٹانے میں طویل وقت درکار ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بات محکمہ دفاع کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے منگل کے روز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے ارکان کو بند کمرے میں دی گئی بریفنگ کے دوران کہی۔
اس ٹائم لائن پر ڈیموکریٹک اور ریپبلکن دونوں جماعتوں کے ارکان نے مایوسی کا اظہار کیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی امن معاہدے کے بعد بھی ایندھن اور تیل کی قیمتیں بلند رہ سکتی ہیں۔
کمیٹی کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ایران ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز کے آس پاس کے علاقے میں بارودی سرنگیں بچھا چکا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ مشرقِ وسطیٰ کے تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔
ایک اعلیٰ عہدیدار نے کانگریس کو بتایا کہ ان میں سے بعض بارودی سرنگیں جی پی ایس ٹیکنالوجی کے ذریعے دور سے نصب کی گئیں، جس کے باعث تنصیب کے دوران امریکی افواج کے لیے ان کی نشاندہی کرنا مشکل ہوگیا۔





















