ایم سکس موٹروے کی تعمیر کےلیے ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے درمیان معاہدہ طے پا گیا۔
وفاقی وزیرمواصلات عبدالعلیم خان نے این ایچ اے اور اے ڈی بی کے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے پوری قوم کومبارکباد دی ہے، کہا ایم سکس موٹروے پاکستان کی ترقی،خوشحالی کی شاہراہ ہے۔ جو منصوبہ 30 سال میں شروع نہ ہوسکا،اللہ کے کرم سے دو سال میں شروع کردیا، منصوبہ اگلے دو سال میں مکمل کرلیاجائے گا۔
عبدالعلیم خان نے کہا کہ ایم سکس موٹروے کراچی تا سکھر کوریڈور کا ’مسنگ لنک‘ ہے جو معاشی ترقی کیلئے ناگزیر ہے، شاہراہ بننے سے ٹریفک کراچی پورٹ سے پشاور، گلگت تک موٹروے کے ذریعے باآسانی جاسکے گی، کراچی تا سکھر موٹروے ملکی تجارت اور سی پیک فریم ورک کا اہم ترین حصہ ہے۔
وفاقی وزیرمواصلات کے مطابق 306 کلومیٹر طویل 6 رویہ موٹروے پر 15 انٹرچینجز،10 سروس ایریاز تعمیر کئے جائیں گے، حیدرآباد تا نوابشاہ دو اہم سیکشنز پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت تعمیر کئے جائیں گے، اسلامی ترقیاتی بینک اور اوپیک فنڈ پہلے ہی 3 سیکشنز کی فنانسنگ منظور کرچکے ہیں۔
ایم 6 موٹروے کی تعمیر کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک اور این ایچ اے کے درمیان معاہدہ خوش آئیند ہے جس پر پوری قوم کو مبارکباد۔ جو منصوبہ 30 سال میں شروع نہ ہو سکا اللہ کے کرم سے 2 سال کے عرصہ میں ہی شروع ہونے جا رہا ہے۔ یہ شاہراہ کراچی تا سکھر کوریڈور کا "مسنگ لنک" ہے جو پاکستان کی…
— Abdul Aleem Khan (@abdul_aleemkhan) April 22, 2026
عبدالعلیم خان نے کہا کہ نجی شعبے کی شمولیت سے منصوبوں میں شفافیت، سرمایہ کاری کے نئے مواقع بڑھیں گے، کراچی کی بندرگاہوں کوشمالی علاقوں سے جوڑنے کیلئے ایم سکس کی تکمیل ناگزیر ہے۔






















