گلگت بلتستان کی وادی چپورسن 3 ماہ سے مسلسل خطرناک زلزلوں کی زد میں ہے۔ مقامی افراد اپنی زندگیوں کو محفوظ بنانے کیلئے ہجرت کرگئے۔
گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ کی آخری وادی پاک افغان سرحد واخان کوریڈور سے متصل یہ علاقہ 19 جنوری کو ایک شدید زلزلے کی زد میں آیا۔ لوگوں نے گھروں سے بھاگ کرجان بچائی ۔ گھر منہدم ہوگئے اور وادی کی طرف جانے والی واحد کچی سڑک بھی بھاری لینڈ سلائیڈنگ سے بند ہوگئی۔
اس زلزلے کے آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری رہا۔ 30 ہزار کے قریب مقامی افراد خوف اور سخت سردی کیوجہ سے اپر ہنزہ اور سنٹرل ہنزہ کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے۔
محکمہ موسمیات اور جیالوجیکل سروے آف پاکستان نے اس علاقے میں جاری زلزلوں کو فالٹ لائن کا جز قرار دیا اور ان زلزلوں کے جھٹکوں کی شدت کو پورے گلگت بلتستان میں محسوس کرنے کی تصدیق کی ۔ ان زلزلوں کے جھٹکوں کی شدت 5.4 سے 4.5 ریکارڈ کی گئی۔
یہاں فالٹ لائن کیساتھ گلیشیئرز کی زیر زمین حرکات کو بھی زلزلوں کا باعث قرار دیا گیا ۔ 3 ماہ سے مسلسل زلزلے سے متاثرہ علاقے کے مکین آج بھی وادی سے ہجرت کرکے دیگر علاقوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔





















