رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کا 42 فیصد سے بھی کم بجٹ خرچ کیا جا سکا جبکہ پیٹرولیم مصنوعات پر ریلیف دینے کے لیے ترقیاتی بجٹ میں بڑی کٹوتی بھی کی گئی ہے۔
سرکاری دستاویز کے مطابق رواں مالی سال وفاقی پی ایس ڈی پی کیلئےایک ہزار ارب روپے مختص تھے۔ اب تک صرف چار سو پندرہ ارب روپے استعمال ہوئے ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات پر عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے وفاقی ترقیاتی بجٹ میں نوے ارب روپے کی کٹوتی کر دی گئی، جس کے بعد سالانہ ترقیاتی بجٹ نو سو دس ارب روپے تک محدود ہو گیا۔ 33 مختلف وزارتوں اور ڈویژنز نے اب تک 300 ارب روپے سے زائد کے فنڈز استعمال کیے ۔ سب سے زیادہ توجہ انفراسٹرکچر پر رہی۔۔ آبی وسائل پر اکیاون ارب، سڑکوں کی تعمیر پر 73 ارب اور پاور ڈویژن کے منصوبوں پر 41 ارب روپے خرچ ہوئے۔ ارکانِ پارلیمنٹ کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے رکھے گئے تمام چوالیس ارب روپے نو ماہ کے دوران ہی مکمل طور پر خرچ کر لیے گئے ۔ دوسری جانب صحت کے شعبے پر محض تین ارب اٹھاون کروڑ روپے ہی خرچ ہو سکے۔ وزارتِ مذہبی امور کے لیے مختص چالیس کروڑ روپے کے فنڈز میں سے نو ماہ میں ایک پیسہ بھی خرچ نہ ہو سکا۔




















