امریکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ امریکا، ایران اور علاقائی ثالثوں کے گروپ کی ممکنہ 45 روزہ جنگ بندی کی شرائط پر بات چیت ہورہی ہے۔
ایرانی توانائی تنصیبات پر حملوں کی ڈیڈ لائن میں دو دن سے بھی کم وقت رہ گیا،ثالثوں نے ڈیڑھ ماہ کی جنگ بندی کیلئے کوششیں تیز کردیں،ثالثوں میں پاکستان،مصر اور ترکیہ شامل ہیں،۔
امریکی ویب سائٹ کا ذرائع سےدعویٰ ہے کہ امریکا، ایران اور علاقائی ثالثوں کا ایک گروپ ممکنہ 45 دن کی جنگ بندی کی شرائط پر بات کر رہا ہے جو جنگ کے مستقل خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔
امریکی میڈیا کےمطابق ابتدائی طورپر 45روزہ جنگ بندی کی جائے گی،دوسرےمرحلےمیں ایک جامع اور حتمی امن معاہدہ پربات ہوگی،پس پردہ براہِ راست پیغامات کےذریعے بھی رابطےجاری ہیں،امریکا کی جانب سےپیش متعدد تجاویز ایران کوقبول نہیں ،48 گھنٹوں میں جزوی معاہدے کے امکانات کم ہیں، دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ نے رپورٹ پر تبصرے سے گریز کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو دھمکی دیتےہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ تنازع ہفتوں میں نہیں دنوں میں ختم ہونا چاہیے،اگر معاہدہ نہ ہوا تو بہت کم چھوڑ کر پورے ایران کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔
امریکا اور اسرائیل کے تہران سمیت ایران کےمختلف شہروں پرشدید حملے جاری ہیں،جنوبی تہران میں بمباری سے 13افراد،قم میں بمباری سے 5افراد شہید ہوئے۔






















