ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اگر ایران کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا تو ایرانی افواج بھی امریکا کی اسی طرح کی تنصیبات کو نشانہ بنائیں گی۔
الجزیرہ ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ’کسی ملک کے انفراسٹرکچر اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس ملک کی پوری آبادی کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں اور یہ ایک طرح سے جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف جرم کے مترادف ہے۔
ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ موجودہ امریکی انتظامیہ کسی منطق اور قانون کو نہیں مانتی اور بنیادی اخلاقیات کے تقاضوں سے عاری ہے۔
اس سے قبل ایرانی صدر کے ترجمان مہدی طباطبائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو اسی صورت میں کھولا جائے گا، جب ایران ٹرانزٹ ٹول کا ایک حصہ جنگ سے ہونے والے نقصانات کی تلافی کے لیے استعمال نہیں کر لیتا۔
واضح رہے کہ ایران نے یہ عندیہ دے رکھا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول کرے گا۔
ایران کی سینٹرل ملٹری کمانڈ کے جنرل علی عبداللہ علی آبادی نے کہا کہ ٹرمپ کی دھمکی ایک ’بے بس، اعصاب شکن، غیر متوازن اور احمقانہ اقدام‘ ہے۔





















