ملکی قرضوں میں 3 سال کےدوران 3 ہزار 200 ارب روپےسےزائد کا اضافہ ہوا،دسمبر 2025 تک قرضوں کا مجموعی حجم 81 ہزار 400 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
دستاویزات کےمطابق گزشتہ مالی سال قرضوں پر 8 ہزار 887 ارب روپے صرف سود ادا کیا گیا،حکومت کے بیرونی قرضوں کی نسبت اندرونی قرضوں پر زیادہ انحصار رہا،رواں مالی سال قرضوں پرسودکی ادائیگی کا تخمینہ 8 ہزار 207 ارب روپےہے،جولائی تادسمبرقرضوں پر 3ہزار 563 ارب روپےسود اداکیاگیا،جنوری سے جون 2026 تک قرضوں پرمزید بھاری سود ادا کرنا پڑے گا۔
دستاویزکےمطابق جون 2022 میں پاکستان کےذمےقرض 49 ہزار 200 ارب روپےتھے،جون 2023 میںقرضوں کاحجم بڑھکر 62 ہزار 900 ارب روپےہوگیا،جون 2024 میں قرضےمزیدبڑھکر 71 ہزار 300 ارب تک جا پہنچے۔
وزارت خزانہ کےمطابق دسمبر 2025 تک اندرونی وبیرونی قرضے 81 ہزار ارب روپےسےتجاوزکرگئے،جون 2025 سےدسمبر 2025 کے دوران قرضوں کےاسٹاک میں کمی آئی،مجموعی قرضوں کے اسٹاک میں اضافہ 12.9 فیصد سے گرکر1.1 فیصد پرآگیا۔





















