خلیجی ممالک نے آبنائے ہرمز کے متبادل کے طور پر نئی پائپ لائنز کی تعمیر پر غور شروع کردیا تاہم پائپ لائنز کی تعمیر تکنیکی طور پر انتہائی دشوار اور مالی طور پر بہت مہنگی ہے۔
عالمی جریدے ‘فائننشل ٹائمز’ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی صورتحال کے پیشِ نظر خلیجی ممالک نے تیل کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز کے متبادل راستوں کی تلاش شروع کر دی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ خلیجی ریاستیں اب سمندری راستے کے بجائے نئی پائپ لائنز کی تعمیر کو ترجیح دینے پر غور کر رہی ہیں۔ پائپ لائنز کی تعمیر تکنیکی طور پر انتہائی دشوار اور مالی طور پر بہت مہنگی ہے، لیکن موجودہ حالات میں سمندری راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث اسے ایک ناگزیر متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز سے ہونے والی تیل کی یومیہ ترسیل، جو کسی زمانے میں 20 ملین بیرل تھی، اب 95 فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے۔
سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی موجودہ گنجائش محض 7 ملین بیرل یومیہ ہے، جو کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے ہونے والی عالمی ترسیل کا نعم البدل نہیں بن سکتی۔
فائننشل ٹائمز نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ خلیجی ممالک متبادل راستوں پر کام کر رہے ہیں، لیکن یہ تمام تر کوششیں آبنائے ہرمز کی بندش یا وہاں سے ہونے والی ترسیل میں کمی کے خلا کو پُر کرنے کے لیے نا کافی ثابت ہو سکتی ہیں۔





















