وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک نے سماء نیوز کے پروگرام ’دو ٹوک‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کے حوالے سے چیزیں ہو سکتی ہیں ، مارکیٹس کو 8 بجے بند کرنے کے حوالے سے اقدامات ہیں، آبنائے ہرمز سے نکلنے والے 20 جہاز پاکستان کے نہیں تھے، صرف 2 جہاز پاکستان پہنچے ، پاکستانی پرچم کی وجہ سے انہیں گزرنے کی اجازت ملی ۔
بیرسٹر عقیل کا کہناتھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا مشکل فیصلہ تھا، خطے کی صورتحال کی وجہ سے ہم مجبور تھے، تیل کے 2 جہاز پرانی قیمت پرآئے تھے، وہ 20جہاز پاکستان کے نہیں تھے،صرف 2 پاکستان پہنچے تھے، پاکستانی پرچم کی وجہ سے ان جہازوں کو اجازت ملی تھی، ہماری کوشش تھی کہ عوام پر بوجھ نہ ڈالاجائے، آئی ایم ایف سے ٹارگٹڈ سبسڈی کی بات ہوئی تھی۔
ان کا کہناتھا کہ ہماری کوشش ہے کہ کل نہیں آج یہ جنگ رکے، ہماری کوشش ہے معاملات خوش اسلوبی سے طے ہوں، پاکستان دیگر ممالک کے ساتھ مل کر ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، اسمارٹ لاک ڈاؤن کے حوالے سے چیزیں ہو سکتی ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرنے کیلئے اقدامات کیے ہیں، مارکیٹس کو 8 بجے بند کرنے کے حوالے سے اقدامات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی بے وقت کی راگنی اور احتجاج ہے، ہو سکتا ہے پی ٹی آئی اٹک میں جلسہ کر لے،سیکیورٹی رپورٹس دیکھ کر جلسے کی اجازت کا فیصلہ ہو گا،سیاسی ملاقاتیں اچھی بات ہے، جب تک اتفاق رائے نہیں ہو گا کوئی نئی ترمیم نہیں ہو گی۔




















