حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 137.23 روپے اضافہ کرتے ہوئے نئی قیمت 458 روپے 41 پیسے جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 184.49 روپے بڑھاتے ہوئے نئی قیمت 520 روپے 35 پیسے مقرر کر دی ہے ۔ موٹر سائیکل سوار کو پیٹرول پر 100 روپے سبسڈی دی جائے گی اور ہر مہینے یہ سبسڈی صرف 20 لیٹر پیٹرول پر دی جائے گی ۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پریس کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کی وجہ سے عالمی منڈیوں میں توانائی کی قیمتوں میں ایک بھونچال آیا ہے، پوری دنیا کو اس آگ نے اپنی لپیٹ میں لے رکھاہے، قوم کو اتحاد اور ڈسپلن کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ، آج مشکل اور ذمہ دارانہ فیصلے جو حکومت لینے جارہی ہے اس کو اس نظر دیکھیں کہ اس طوفان کو برپا کرنے میں اس حکومت کا کوئی کردار نہیں لیکن اس طوفان نے حکومت کی جانب سے پائیدار ترقی کیلئے لیئے اقدامات کو اپنی لپیٹ میں لے لیاہے ۔یہ معاملہ چند ہفتوں سے بگڑتا جارہاہے ۔
علی پرویز ملک کا کہناتھا کہ پاکستان ، دبئی اور عمان کی منڈیوں سے 90 فیصد توانائی حاصل کرتاہے ، وہاں پر ریکارڈ اضافہ دیکھا گیاہے ، تیل تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے اور 250 ڈالر فی بیرل سے بھی بڑھ چکاہے ، اس کو سامنے رکھتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف نے کفایت شعاری کے ذریعے ، کابینہ کی تنخواہوں کی کٹوتی ، سرکاری پیٹرول کی کٹوتی کے ذریعے اور ترقیاتی فنڈز میں کٹوتی کر کے عوام کے آگے دیوار بننے کی کوشش کی کہ اس تپش سے عام آدمی کو بچا سکیں ۔یکم مارچ سے آج تک 129 ارب روپے حکومت عوام کے تحفظ کیلئے خرچ کر چکی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ و ہ ممالک جن کی جیبیں بھری ہوئی تھیں وہاں پر بھی توانائی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے ، وہاں پر پمپوں پر فوج تعینات کر دی گئی ہے لیکن پاکستان حکومت نے بروقت فیصلے کیئے جس سے ایندھی کی فراہمی میں کوئی تعطل نہیں آیا۔
آج بڑی بیٹھک ہوئی جس میں تمام قیادت کے علاوہ فوجی قیادت بھی موجود تھے ۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہناتھا کہ قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ ٹارگٹڈ سبسڈی پروگرام کا اعلان کر رہے ہیں، تاکہ ریلیف اسی طبقے کو ملے جو اس کے حقیقی حقدار ہیں، تاکہ غریب اور متوسط طبقے پر مہنگائی کا بوجھ کم ہو ، وسائل کا رخ وہاں موڑا جائے گا جہاں ضرورت زیادہ ہے ، موٹر سائیکل سوار کو پیٹرول پر 100 روپے سبسڈی دی جائے گی اور ہر مہینے یہ سبسڈی صرف 20 لیٹر پیٹرول پر دی جائے گی ۔
چھوٹے زمینداروں کیلئے 1500 روپے ایک مرتبہ سبسڈی دی جائے گی ، ڈیزل کے استعمال پر پبلک ٹرانسپورٹ اور فریٹ ٹرانسپورٹ کیلئے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دیں گے ، ٹرکوں کو 70 ہزار روپے ماہانہ اعلان کیا جا رہاہے ، بڑی مال برادر گاڑیوں کیلئے ہر مہینے 80 ہزار روپے سبسڈی ، مسافر بسوں کیلئے ایک لاکھ روپے مہینے سبسڈی دی جائے گی ۔ ہم اس پر اگلے مہینے پھر نظر ثانی کریں گے ۔




















