مشرق وسطی بحران سے پیدا مہنگائی سے کمزور طبقے کو بچانے کےلیے وفاق اور صوبوں کے درمیان مختلف تجاویز پر تاحال اتفاق رائے نہ ہوسکا۔ وزیراعظم شہباز شریف حتمی فیصلے کیلئے مزید مشاورت کریں گے۔
وزیر خزانہ کی زیر صدارت اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ وفاق تقریباً 130 ارب روپے خرچ کر چکا۔ مزید 25 سے 30 ارب روپے کی گنجائش ہے۔وفاقی حکومت نے بائیک چلانے والوں کو سبسڈی کا معاملہ صوبوں پر چھوڑ دیا۔
ذرائع کے مطابق موٹر سائیکل، رکشہ والوں کو دو سے تین لیٹر تک مفت پیٹرول فراہم کرنے کی تجویز ہے، متبادل آپشن کے طور پر اس کے مساوی سبسڈی کی رقم منتقل کرنے کی تجویز ہے۔
وفاقی حکومت نے بائیک چلانے والوں کو سبسڈی کا معاملہ صوبوں پر چھوڑ دیا، ڈیزل والی ٹرانسپورٹ بسوں، گڈز سروسز والے ٹرک مالکان کو سبسڈی پر فیصلہ نہ ہوسکا۔ چھوٹے کسانوں کو فی ایکڑ کے حساب سے1500روپے تک سبسڈی کی تجویز ہے۔ مجوزہ سبسڈی صرف پانچ ایکڑ اراضی والے کسانوں کو دینے کی تجویز ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاق اور صوبوں کے درمیان سبسڈی کے طریقہ کار پر مزید مشاورت ہوگی، صوبہ سندھ اور پنجاب کمزور طبقے کو براہ راست خود سبسڈی دینے کو تیار ہے۔ سبسڈی کی فراہمی پر قومی لائحہ عمل اور طریقہ کار طے کرنے پر مزید مشاورت ہوگی۔




















