سیشن کورٹ نے گلوکار علی ظفر کا میشا شفیع کیخلاف ہتک عزت کے دعویٰ کا فیصلہ سناتے ہوئے میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے جرمانہ کر دیا ۔
تفصیلات کے مطابق کیس کا فیصلہ ایڈیشنل سیشن جج آصف حیات نے سنایا، عدالت نے میشاشفیع کے خلاف دعویٰ کو ڈگری کر دیاہے ، کیس میں مجموعی طور پر بیس گواہوں کے بیانات کو قلمبند کیا گیا ، علی ظفر نے میشا شفیع کے خلاف ایک ارب روپے ہرجانے کا دعوی دائر کیا تھا ۔
یاد رہے کہ میشا شفیع نے علی ظفر پر جنسی ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا اور کیس کے دوران مجموعی طور پر 284 پیشیاں ہوئی اور نو ججز کے تبادلے ہوئے۔
مختصر تحریری فیصلہ جاری
فیصلے میں کہا گیاہے کہ میشا شفیع کا 19اپریل 2018 کو علی ظفر کے خلاف ٹوئٹ ہتک آمیز،غلط اورجھوٹا ثابت ہوا، میشا شفیع کے علی ظفر پرہراسانی کے الزامات ثابت نہیں ہوئے، درخواست گزار عزت نفس مجروح ،شہرت کو نقصان پہنچنے اور ذہنی اذیت کا شکار ہونے پر ہرجانے کاحق دارہے، درخواست گزار کی جانب سے کئے 100 کروڑ ہرجانے کو منظور نہیں کیا جاسکتا ، میشا شفیع علی ظفر کو50 لاکھ ہرجانہ ادا کرے، میشا شفیع سوشل میڈیا یا کسی اورپلیٹ فارم پر دوبارہ علی ظفر پر ہراسانی کے الزامات نہیں لگائیں گی،ہتک عزت کے دعوے کو عملدرآمد کارروائی میں تبدیل کیا جاتا ہے، دعوے میں رقم کی وصولی کیلئے فریقین 4 مئی کوعدالت پیش ہوں، ہتک عزت کے دعوے کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا ۔






















